خلیج عدن میں ہندوستانی بحریہ کو دیکھ کر قزاق بھاگ گئے، عملہ محفوظ
۔قزاقوں کے فرار ہونے کے بعد ہندوستانی بحریہ کے جانباز مارکوس کمانڈو نے مکمل تلاشی لی نئی دہلی، 02 جولائی (ہ س)۔ ہندوستانی بحریہ نے خلیج عدن میں ہندوستان کے لئے ضروری سامان لے جانے والے بحری جہاز پر بحری قزاقی کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ قزاق ہندو
Gulf-of-Aden-indian-navy-Piracy


۔قزاقوں کے فرار ہونے کے بعد ہندوستانی بحریہ کے جانباز مارکوس کمانڈو نے مکمل تلاشی لی

نئی دہلی، 02 جولائی (ہ س)۔ ہندوستانی بحریہ نے خلیج عدن میں ہندوستان کے لئے ضروری سامان لے جانے والے بحری جہاز پر بحری قزاقی کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ قزاق ہندوستانی جہاز کو قریب آتے دیکھ کر فرار ہو گئے جس سے عملہ محفوظ رہا اور جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ جہاز ہندوستان کے لیے ضروری سامان لے کر جا رہا تھا اور اس میں ایک ہندوستانی شہری بھی سوار تھا۔ بحریہ کے کمانڈو نے متاثرہ جہاز پر چڑھ کر جامع تلاشی لی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ جہاز پر کوئی قزاق سوارچھپانہ ہو۔

سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز کے جھنڈے والا بلک کیریئر ایم وی گولڈن آرسنل ہندوستان کے لیے ضروری سامان لے کر جا رہا تھا۔ جبوتی سے تقریباً 300 ناٹیکل میل مشرق شمال مشرق میں خلیج عدن سے گزرتے ہوئے قزاقوں نے جہاز پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ خطرے کو محسوس کرتے ہوئے جہاز کے عملے نے خود کو ایک محفوظ کمرے میں بند کر لیا اور بحر ہند کے علاقے کے انفارمیشن فیوژن سینٹر کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد علاقے میں تعینات ہندوستانی بحریہ کے جہاز آئی این ایس تریکندکو تجارتی جہاز کو روکنے کی ہدایت دی گئی۔

بحریہ کے کیپٹن وویک مدھوال نے بتایا کہ یکم جولائی کو پریشانی کی کال موصول ہونے پر، ایک مشن پر تعینات ہندوستانی جنگی جہاز آئی این ایس تریکند، مدد کے لیے تیزی سے روانہ ہوا۔ بحری جنگی جہاز کے قریب آتے ہی قزاق فرار ہو گئے،جس سے عملہ محفوظ رہا اور جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز میں عملے کے 21 ارکان سوار تھے جن میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل تھا۔ سبھی نے برج سپراسٹرکچراور آس پاس کے حصوں کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع دی۔ عملے نے مرچینٹ ویسل کے سیٹاڈیل میں پناہ لی اور انہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2 جولائی کی صبح، آئی این ایس تریکند سے ایک بورڈنگ ٹیم ایم وی گولڈن آرسنل میں جہاز کو صاف کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سوار ہوئی۔ قزاقوں کے فرار کے بعد، ہندوستانی بحریہ کے بہادر مارکوس کمانڈوز متاثرہ جہاز ایم وی گولڈن آرسنل پر اترے۔ مکمل تلاشی کے بعد جہاز پر کوئی مشکوک شخص نہیں ملا۔ کمانڈوز کی جانب سے جہاز کی مکمل تلاشی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی خطرہ یا قزاق جہاز میں چھپے نہ رہے۔ بحریہ کے میرین کمانڈوز نے پورے جہاز کو محفوظ اور سینٹائز کیا۔ آپریشن کو بڑھانے کے لیے، بحریہ کے پی -8 آئی میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ کو علاقے میں فضائی نگرانی اور جاسوسی کے لیے تعینات کیا گیا ، جس سے میری ٹائم ڈومین کے بارے میں آگاہی بڑھی گئی اور بحری قزاقی کے خلاف کارروائیوں میں مدد ملی ۔

انہوں نے کہا کہ جہازکوسینٹائز کرنے اورفوراًخطرے کو ختم کرنے کے ساتھ آئی این ایس تر یکند کااینٹی-پائرییسی آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ ایم وی گولڈن آرسنل نے اپنا اگے کاسفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande