رام مندر چڑھاواغبن معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہو : کے سی وینوگوپال
نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س):۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر میں چڑھاواکی مبینہ چوری کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگ
رام مندر چڑھاواغبن معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہو : کے سی وینوگوپال


نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س):۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر میں چڑھاواکی مبینہ چوری کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ کوئی معمولی چوری نہیں ہے، بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے عقیدے سے جڑا ایک بڑا گھوٹالہ ہے۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط کا اشتراک کرتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ رام مندر میں پرساد کی چوری نے پوری قوم کو چونکا دیا ہے۔ لاکھوں عقیدت مندوں نے اپنی محنت کی کمائی بھگوان رام کے نام پر عطیہ کی، لیکن اس رقم کے غلط استعمال اور غبن کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مریاداپرشوتم بھگوان رام کے نام اور عقیدے کا سیاسی اور مالی فائدے کے لیے غلط استعمال کیا گیا۔ رام مندر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی حکومت کی طرف سے بنائے گئے عوامی ٹرسٹ کی قیادت میں عوامی زمین پر تعمیر کیا گیا ۔ اس لیے مندر کے انتظام میں کسی بھی بے ضابطگی کے لیے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے۔

وینوگوپال نے دعویٰ کیا کہ مختلف سطحوں پر چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے بارے میں بار بار انتباہات جاری کیے گئے، لیکن انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ مندر کی انتظامیہ کے ذمہ داروں نے جان بوجھ کر کروڑوں روپے کے مبینہ غبن پر آنکھیں بند کر لیں۔

خط میں وینوگوپال نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں مندر میں عطیہ کی گئی نقدی اور زیورات کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیوں کا اشارہ ملتا ہے۔ سات سے آٹھ ماہ پر محیط اہم سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی ڈلیٹ کر دیا گیا، جس سے شواہد کو تباہ کرنے کی کوشش کا شبہ پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اتر پردیش حکومت کے ذریعہ تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اب تک اپنی کارروائیوں کو نچلے درجے کے ملازمین تک محدود رکھا ہوا ہے، جب کہ مبینہ طور پر اعلیٰ عہدہ پر فائز اور بااثر افراد کے کردار کی تفتیش نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایس آئی ٹی کی تحقیقات کو تفتیش کو غلط سمت دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقی مجرموں کو بچانے کی کوشش ہے۔

وینوگوپال نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد، اعلیٰ سطحی ایجنسی کے ذریعے غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لاکھوں عقیدت مندوں کا عقیدہ بحال ہوگا اور بھگوان رام کے نام پر قائم ادارے کا تقدس برقرار رہے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande