
اندور، 02 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں بدھ کی دیر رات تک ہوئی موسلا دھار بارش کے بعد طغیانی زدہ ندی نالوں کے تیز بہاو میں دو الگ الگ مقامات پر دو نوجوان بہہ گئے۔ جن میں سے لسوڑیا علاقے سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہو گئی ہے جبکہ اہیر کھیڑی میں بہنے والے نوجوان کی تلاش جاری ہے۔
معلومات کے مطابق، پہلا حادثہ لسوڑیا تھانہ علاقے میں پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ لسوڑیا موری کا رہنے والا 34 سالہ گولو پنوار ایک اینٹ بنانے والی فیکٹری میں مزدوری کرتا تھا۔ بدھ کی رات تقریباً 9 بجے وہ موسلا دھار بارش کے دوران ڈیوٹی پر تعینات اپنے سیکورٹی گارڈ والد آتمارام پنوار کے لیے کھانا لے کر جا رہا تھا۔ راستے میں نالے کے کنارے سے گزرتے وقت وہ اچانک تیز بہاو کی زد میں آکر بہہ گیا۔ دیر رات تک جب وہ گھر یا والد کے پاس نہیں پہنچا تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی، لیکن رات کے اندھیرے کی وجہ سے اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
جمعرات کی صبح ایس ڈی ای آر ایف کی ٹیم کو ریسکیو کے لیے اتارا گیا۔ پلاٹون کمانڈر اشون چودھری کی قیادت میں کانسٹیبل کپل مٹھولیا، دنیش دھنیرا، پردیپ مکوریا، دنیش منڈلوئی اور شیلیندر سنگھ پرہار نے نالے میں گہری تلاشی مہم شروع کی۔ تقریباً ایک گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد ٹیم کو گولو کی لاش نالے کے ایک پل کے نیچے کچرے میں پھنسی ہوئی ملی۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ایم وائی اسپتال بھجوا دیا ہے۔
دوسرا واقعہ اہیر کھیڑی علاقے کا ہے، جہاں بدھ کے روز ہی پانی کے تیز بہاو کو پار کرنے کی کوشش میں ایک اور نوجوان لاپتہ ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، مہیش چوہان نامی نوجوان اپنے دوست منیش کے ساتھ پل کے زیرِ آب راستے (رپٹے) کو پار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران پانی کا بہاو اچانک اتنا تیز ہوا کہ دونوں دوست پیر پھسلنے سے بہہ گئے۔ حادثے میں منیش نے جیسے تیسی تیر کر اپنی جان بچا لی اور محفوظ باہر نکل آیا، لیکن مہیش دیکھتے ہی دیکھتے گہرے پانی میں سما گیا۔ پولیس اور غوطہ خوروں کی راحت و بچاو ٹیم بدھ کی رات سے ہی لگاتار اہیر کھیڑی اور اس سے منسلک آبی ذرائع میں اس کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن چلا رہی ہے، تاہم جمعرات کی شام تک اس کا کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن