کھیل سفارت کاری کا عملی مظاہرہ
از: چاروی اروڑا، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی نوجوان ہندوستانی باسکٹ بال کھلاڑیوں کی ایک پوری نسل کے لیے امریکہ نقشے پر نظر آنے والے فاصلے سے کہیں زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔ وہ نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (این بی اے) کے ستاروں کو سوشل
کھیل سفارت کاری کا عملی مظاہرہ


از: چاروی اروڑا، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی

نوجوان ہندوستانی باسکٹ بال کھلاڑیوں کی ایک پوری نسل کے لیے امریکہ نقشے پر نظر آنے والے فاصلے سے کہیں زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔ وہ نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (این بی اے) کے ستاروں کو سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں، یوٹیوب پر اُن کے کھیل کا جائزہ لیتے ہیں، اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں پر بحث کرتے ہیں، اور دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے میدان میں مقابلہ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔

مئی 2026 میں فریڈم 250 سلَیم ڈنک ایکس پیرئنس کے دوران نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں یہ تعلق عملی شکل میں سامنے آیا۔ دہلی کے مختلف اسکولوں اور باسکٹ بال اکادمیوں سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد طلبہ این بی اے کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے یکجا ہوئے۔ این بی اے امریکہ کی صفِ اوّل کی پیشہ ورانہ باسکٹ بال لیگ ہے اور اس کھیل کے بڑے ستارے اسی سے وابستہ ہیں۔

یہ پروگرام فریڈم 250 تقریبات کے سلسلے میں منعقد کیا گیا، جو امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر شروع کی گئی ایک پہل ہے۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانہ نے امریکی پیشہ ورانہ باسکٹ بال ٹیم سیکرامنٹو کنگس کے اشتراک سے طلبہ کو کھیل، مہارتوں کے فروغ، اور مشترکہ خوابوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑنے کا موقع فراہم کیا۔

ہندوستان میں باسکٹ بال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت

جب طلبہ سے اُن کے پسندیدہ باسکٹ بال ہیروز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جواب فوراً سامنے آتے ہیں: اسٹیفن کری، کوبی برائنٹ، ایلن آئیورسن، ڈیون بُکر اور یانیس اینٹیٹو کونمپو۔ مختلف ادوار، ٹیموں اور کھیل کے انداز سے تعلق رکھنے والے یہ نام باسکٹ بال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

تقریب کے شرکاء میں شامل افیوپانگ مشرا کے لیے اینٹیٹو کونمپو ایک خاص متاثر کن شخصیت ہیں۔ مشرا ملواکی بکس کے اس اسٹار کھلاڑی کو پسند کرتے ہیں ”کیونکہ وہ کھیل پر بھرپور گرفت رکھتے ہیں اور بہت طاقتور ہیں۔“ تقریب میں موجود بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کی طرح وہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن ہندوستان سے باہر پیشہ ورانہ سطح پر کھیلیں گے اور بالآخر اس کھیل کے اعلیٰ ترین درجے تک پہنچیں گے۔

ان آرزوؤں اور تمناؤں کی گونج پورے دن سننے کو ملی۔ نہرو ورلڈ اسکول کے 16 سالہ کھلاڑی کرشن سنگھ، جو قومی سطح پر اتر پردیش کی نمائندگی کر چکے ہیں، مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”میرا ہدف این بی اے تک پہنچنا ہے۔“

اُن کے ہم جماعت میَنک تیاگی کا مقصد بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”میں ہندوستان کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں، لیکن میرا اصل ہدف بین الاقوامی سطح پر کھیلنا ہے۔“

تقریب کے دوران شرکاء نے شوٹنگ، پاسنگ، اور ڈربلنگ (گیند کو مسلسل زمین پر اچھالتے ہوئے آگے بڑھنے) کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا، جب کہ سیکرامنٹو کنگس کے کوچیز اور دہلی کے دیگر کھلاڑیوں سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔ بہت سے طلبہ کے لیے اس تجربے نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ ہندوستان میں باسکٹ بال کا مستقبل روشن ہے۔

نہرو ورلڈ اسکول کی رودراکشی ورما کہتی ہیں، ”ہندوستان میں باسکٹ بال تیزی سے مقبول ہور ہا ہےاور اس کا مستقبل واقعی روشن ہے۔“ اُن کے خیال میں یہ کھیل صرف جسمانی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر سیکھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ”یہ صرف کھیل نہیں ہے۔ ہمیں نئے لوگوں سے ملنے، نئی چیزیں سیکھنے اور کھیلوں کی اخلاقیات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، جو ہمیں کتابوں یا روایتی تعلیم سے نہیں مل سکتا۔“

شیو نادر اسکول کی سِمرن این بی اے کے عظیم کھلاڑی کوبی برائنٹ سے متاثر ہیں، جن کی محنت، لگن اور نظم و ضبط آج بھی دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لیے مثال ہیں۔ برائنٹ کا مشہور تصور ”مامبا مینٹیلٹی“ (مسلسل خود کو بہتر بنانے اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا نظریہ) آُن کے لیے اب بھی حوصلے اور تحریک کا اہم ذریعہ ہے۔

این بی اے ہال آف فیمر سے تربیت

سیکھنے کا یہ موقع صرف مشقوں اور دوستانہ مقابلوں تک محدود نہیں تھا۔ طلبہ نے این بی اے ہال آف فیم کے رکن ولاڈے ڈیواک کی گفتگو بھی سنی، جنہوں نے لاس اینجلس لیکرس، شارلٹ ہارنیٹس، اور سیکرامنٹو کنگس کے ساتھ اپنے کریئر کے ذریعے باسکٹ بال کے نمایاں بین الاقوامی کھلاڑیوں میں جگہ بنائی۔

شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیواک نے اس بات پر زور دیا کہ کامیابی کا انحصار اس بات پر نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کہاں سے آغاز کرتا ہے۔ اپنے ذاتی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے محنت، نظم و ضبط، اور تعلیم پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں پیدا ہوئے ہیں۔ آپ کو اپنے خواب کی تعبیر ضرور ملتی ہے مگر اس کے لیے درست راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔“

ڈیواک نے کھیل اور تعلیم کے درمیان توازن کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق میدان کے اندر اور باہر یکساں لگن اور محنت نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ”اگر آپ اس کھیل سے محبت کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، اور اسکول میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو باسکٹ بال یقیناً آپ کو این بی اے کھلاڑی بننے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔“

بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ان کا پیغام واضح تھا: صلاحیت اہم ہے، لیکن عزم اور تیاری بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈیواک نے شرکاء کو یاد دلایا کہ جو لوگ اپنی ترقی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اُن کے لیے غیر متوقع مقامات سے بھی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ”اگر آپ واقعی اس کھیل سے محبت کرتے ہیں، اپنے کھیل پر محنت کرتے ہیں، اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں، تو آگے چل کر کچھ بھی ممکن ہے اور آپ این بی اے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔“

امریکہ۔ہند کھیل سفارت کاری کا حسین امتزاج

باسکٹ بال کی مہارتوں سے آگے بڑھ کر، اس تقریب نے بامعنی گفتگو کے مواقع بھی فراہم کیے۔ کئی طلبہ نے کہا کہ امریکی کوچیز، کھلاڑیوں، اور نمائندوں سے ملاقات نے انہیں اس کھیل سے وابستہ لوگوں اور ان کے نقطۂ نظر کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیا۔

تقریب میں شریک طالبہ تھیو کے مطابق اس پروگرام کی خاص بات اس کا بھرپور اور فعال انداز تھا۔ وہ کہتی ہیں”انہوں نے یہ یقینی بنایا کہ کوئی بھی خود کو الگ تھلگ محسوس نہ کرے۔ یہ ایک ہمہ جہت تجربہ تھا۔“

رودراکشی کے لیے یہ تجربہ ہندوستان اور امریکہ کے نوجوانوں کے درمیان موجود مشترک پہلوو¿ں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنا۔ وہ بتاتی ہیں، ”ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا کہ وہ کیا سوچتے ہیں، اُن کا اندازِ فکر کیا ہے، کھیل کے بارے میں اُن کا رویہ کیسا ہے، اور ہمارے درمیان کون سی مشترک باتیں موجود ہیں۔“

باسکٹ بال ٹرینر اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کار دیوانش پاودیگھاڈا نے ان روابط کو خود بھی قریب سے محسوس کیا ہے۔ امریکہ میں تعلیم اور تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ اب ہندوستان میں نوجوان صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ملک میں فروغ پاتی باسکٹ بال ثقافت کو بھی دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔وہ اظہار رائے کرتے ہوئے کہتے ہیں”کھیل، فنون، اور موسیقی ایسی چیزیں ہیں جو ہر قسم کی سرحدوں سے ماورا ہوتی ہیں۔“

پاودیگھاڈا کے مطابق باسکٹ بال لوگوں کو ایک ایسی منفرد یکجہتی کا احساس دلاتا ہے جو بہت کم پلیٹ فارمس فراہم کر پاتے ہیں۔ اس کھیل کے ذریعے قائم ہونے والے تعلقات آج بھی اُن کی زندگی اور پیشہ ورانہ سفر پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں، ”باسکٹ بال نے دوست بنانے، نئے لوگوں سے ملنے، اور خود اعتمادی پیدا کرنے میں میری بہت مدد کی۔ یہ لوگوں کو ایک نہایت منفرد انداز میں جوڑتا ہے، اور یہی اس کی سب سے خوبصورت بات ہے۔“

باسکٹ بال کے عالمی مستقبل کی تعمیر

ڈیواک کے نزدیک ہندوستان میں باسکٹ بال کے فروغ کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے، اور ہم خاص طور پر بچوں کے لیے باسکٹ بال کی ترقی میں تعاون کرنا چاہیں گے۔“

کرکٹ کی مسلسل مقبولیت کو تسلیم کرنے کے باوجود ڈیواک کا خیال ہے کہ باسکٹ بال اس کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہے گا۔ تقریب کے دوران طلبہ کے جوش و خروش اور صلاحیتوں نے ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا۔

ڈیواک کے مطابق ہندوستان میں باسکٹ بال کا مستقبل ایک بڑی کہانی کا حصہ ہے، جو اس کھیل کی سرحدوں سے ماورا لوگوں کو جوڑنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اپنے پورے کریئر کے دوران باسکٹ بال نے انہیں دنیا بھر کے مختلف لوگوں اور طبقات سے جوڑا جو اس کھیل کی عالمی رسائی کا ثبوت ہے۔“

فریڈم 250 سلَیم ڈنک ایکس پیرئنس نے اسی جذبے کی عکاسی کی۔ طلبہ، کوچیز، اور این بی اے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کر کے اس تقریب نے یہ دکھایا کہ کھیل کس طرح نوجوانوں کو متاثر کر سکتا ہے، نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس حقیقت کی عکاسی ڈیواک کے اس بیان سے ہوتی ہے جس میں وہ کہتے ہیں ” کھیل لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔“

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande