ایک نوجوان نے جاجمو گنگا پل سے گنگا میں چھلانگ لگادی، رات بھر ریسکیو آپریشن کے باوجود نہیں ملی لاش
کانپور، 19 جولائی (ہ س)۔ سنیچر کی دیر رات، اتر پردیش کے کانپور میں جاجمو گنگا پل پر ایک نوجوان نے اپنے دوست اور چھوٹے بھائی کے سامنے دریائے گنگا میں چھلانگ لگا دی۔ واقعے کے بعد پولیس، واٹر پولیس اور غوطہ خوروں نے دیر رات تک اس کی تلاش کی لیکن تیز ب
گنگا


کانپور، 19 جولائی (ہ س)۔ سنیچر کی دیر رات، اتر پردیش کے کانپور میں جاجمو گنگا پل پر ایک نوجوان نے اپنے دوست اور چھوٹے بھائی کے سامنے دریائے گنگا میں چھلانگ لگا دی۔ واقعے کے بعد پولیس، واٹر پولیس اور غوطہ خوروں نے دیر رات تک اس کی تلاش کی لیکن تیز بہاو کی وجہ سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ پولیس واقعے کی وجہ جاننے کے لیے اہل خانہ اور وہاں موجود افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق لاپتہ نوجوان کی شناخت عرفان (28) عرف دھنو ساکن اخلاق نگر، اناو کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ وال کٹر کا کام کرتا تھا۔ ان کے خاندان میں ان کے والد محمد ارشاد عرف چناعلی، والدہ صاحبہ خاتون اور دو چھوٹے بھائی عمران اور ارمان شامل ہیں۔ نوجوان کے دوست عابد نے بتایا کہ عرفان کا ہرجندر نگر چوراہے کے قریب شراب کی دکان پر فون پر کسی سے جھگڑا ہوا۔ اس کے بعد اس نے شراب پی۔ اس کا چھوٹا بھائی عمران بھی کچھ دیر بعد وہاں پہنچ گیا۔ پھر تینوں نے جاجمو چوراہے سے مچھلی خریدی اور دو بائک پر گھر کے لیے روانہ ہوئے۔

عابد کے مطابق جیسے ہی وہ جاجمو گنگا پل پر پہنچے عرفان اچانک بائک سے اترا اور پل کی ریلنگ کی طرف بھاگا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے اور اسے روکنے کی کوشش کرتے، اس نے گنگا میں چھلانگ لگا دی۔ وہ کچھ ہی دیر میں دریا کے تیز بہاو میں غائب ہو گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جاجمو پولیس اسٹیشن، واٹر پولیس اور غوطہ خور جائے وقوعہ پر پہنچے۔ جالوں اور کشتیوں کا استعمال کرتے ہوئے طویل تلاشی مہم چلائی گئی تاہم دیررات تک نوجوان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ بیٹے کے دریا میں چھلانگ لگانے کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ بےچین ہوگئے۔ والد محمد ارشاد نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کو جلد تلاش کیا جائے۔ اسٹیشن ہاوس آفیسر سنجے پانڈے نے بتایا کہ نوجوان کی تلاش جاری ہے۔ واقعے کی وجہ جاننے کے لیے اہل خانہ، دوستوں اور دیگر متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھ کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande