
پٹنہ،19جولائی(ہ س)۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اقلیتی شعبہ، بہار کے نائب صدر تنویر انصاری نے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مبینہ انہدامی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے تعلیم، انصاف اور آئینی اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرے اور مسئلے کا حل قانونی اور آئینی طریقے سے نکالے۔
تنزیر انصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر عمارت کے نقشے یا دیگر قانونی امور سے متعلق کوئی مسئلہ موجود ہے تو اس کے لیے جرمانہ، قانونی کارروائی یا دیگر متبادل راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں، لیکن ایک ایسے تعلیمی ادارے کو منہدم کرنا جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہوں، کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں ایسی عمارتیں، اسکول، کالج اور دیگر ادارے موجود ہیں جن کے حوالے سے قانونی یا انتظامی نوعیت کے مسائل ہیں۔ اگر انہدام ہی واحد حل ہے تو پھر قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک ادارے کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر نقشہ منظور نہ ہونے کی بنیاد پر عمارتیں گرائی جائیں گی تو کیا ایسے تمام اداروں کے خلاف بھی یکساں کارروائی ہوگی؟
آر جے ڈی اقلیتی شعبہ کے نائب صدر نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک رجسٹرڈ اور منظور شدہ تعلیمی ادارہ ہے، جس نے برسوں سے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے ادارے کے خلاف سخت کارروائی نہ صرف اقلیتی تعلیمی اداروں میں بے چینی پیدا کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی شبیہ متاثر ہوگی، کیونکہ ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیمی اداروں کو فروغ دیا جاتا ہے، انہیں منہدم نہیں کیا جاتا۔
تنزیر انصاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے، انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کرے اور طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے پْرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan