تنخواہ کی عدم ادائیگی پر خاتون ہوم گارڈ کے رونے کا واقعہ تشویشناک، حکومت جواب دے: رافعہ ناز
رانچی، 19 جولائی (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی ترجمان رافعہ ناز نے جمشیدپور کے ایم جی ایم اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران پانچ ماہ سے معاوضہ نہ ملنے پر ایک خاتون ہوم گارڈ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے کے واقعے کو جھارکھنڈ حکومت کی بے حسی کی علامت
تنخواہ کی عدم ادائیگی پر خاتون ہوم گارڈ کے رونے کا واقعہ تشویشناک، حکومت جواب دے: رافعہ ناز


رانچی، 19 جولائی (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی ترجمان رافعہ ناز نے جمشیدپور کے ایم جی ایم اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران پانچ ماہ سے معاوضہ نہ ملنے پر ایک خاتون ہوم گارڈ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے کے واقعے کو جھارکھنڈ حکومت کی بے حسی کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک خاتون ہوم گارڈ کی تکلیف نہیں بلکہ ریاست کے ہزاروں ہوم گارڈ جوانوں کی ابتر حالت کو بے نقاب کرتا ہے۔

اتوار کو جاری پریس ریلیز میں رافعہ ناز نے کہا کہ اسپتال احاطے میں خاتون ہوم گارڈ نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاوضہ نہ ملا تو خاندان کی کفالت مشکل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شدید بیماری کے باوجود علاج نہ کرا سکنے کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنے حفاظتی اہلکاروں کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اسی ماہ جمشیدپور کے ایم جی ایم اسپتال میں معاوضہ نہ ملنے اور مالی تنگی سے پریشان ایک خاتون ہوم گارڈ نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود حکومت نے مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کے لیے ہوم گارڈ جوانوں کا احترام اور ان کی زندگی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔

بی جے پی کی ترجمان نے کہا کہ سال 2024 میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد حکومت نے ہوم گارڈ جوانوں کے یومیہ معاوضے میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن آج بھی بڑی تعداد میں جوانوں کو کئی ماہ سے ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر عدالت کی ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے تو زیر التوا معاوضوں کی ضلع وار تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں۔

رافعہ ناز نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ہوم گارڈ جوانوں کو ملازمت کا تحفظ، عزت اور مستقل روزگار کی سمت میں ٹھوس اقدامات کا یقین دلایا تھا، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ جوان اپنی ہی محنت کی کمائی حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ نہ انہیں بروقت ادائیگی ہو رہی ہے اور نہ ہی ان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی بنائی گئی ہے۔

رافعہ ناز نے کہا کہ ہوم گارڈ جوانوں کی موجودہ حالت ریاستی حکومت کی وسیع انتظامی ناکامی کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف مئیاں سمان یوجنا میں مستحقین کے نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی ہیں، تو دوسری جانب بیوہ، معذور اور ضعیف العمری پنشن کے مستحقین بھی بروقت ادائیگی نہ ہونے سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب، خواتین، بزرگ، معذور افراد اور ہوم گارڈ اپنے حقوق کے لیے دربدر پھر رہے ہیں، جبکہ حکومت صرف تشہیر میں مصروف ہے۔

بی جے پی کی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ تمام ہوم گارڈ جوانوں کے زیر التوا معاوضے فوری طور پر جاری کیے جائیں، عدالت کی ہدایات کے مطابق نظرثانی شدہ معاوضے کی باقاعدہ ادائیگی یقینی بنائی جائے، ہوم گارڈ جوانوں کی ملازمت کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے اور انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے جلد پورے کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جس حکومت میں ریاست کی حفاظت کے لیے وردی پہننے والا جوان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے رونے پر مجبور ہو جائے، اس حکومت کے حساس ہونے کے تمام دعوے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ جوابدہی اور انصاف چاہتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande