
بیڑ، 19 جولائی (ہ س) پرلی شہر میں سرکاری فرائض انجام دینے والے ایک بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) اور پیشے سے استاد پرمبینہ طورپران کے گھرجا کرووٹرفارم نہ دینے کے تنازع پرگھرمیں گھس کرگالی گلوچ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے سمیت مختلف دفعات کے تحت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ملیک پورہ کے رہائشی محفوظ ذاکر شیخ، عمر 42 سال، جو پیشے سے استاد ہیں، نگر پریشد کے خصوصی نظرثانی پروگرام کے تحت حصہ نمبر 212 میں بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) کے طورپرخدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ عبدالحمید شادی خانہ میں منعقدہ سرکاری کیمپ میں شہریوں کے ووٹررجسٹریشن اورانتخابی فارم بھرنے کا کام انجام دے رہے تھے۔اسی دوران پیٹھ محلہ کے رہائشی شاکراحمد شیخ، جنید شیخ، شعیب شیخ اورایک نامعلوم شخص وہاں پہنچے اورمحفوظ ذاکر شیخ سے سوال کیا کہ وہ ووٹنگ فارم لے کران کے گھر کیوں نہیں آئے۔ الزام ہے کہ اس کے بعد شاکراحمد شیخ نے محفوظ ذاکرشیخ کے ہاتھ سے سرکاری دستاویزات چھین کر زمین پر پھینک دیں۔ اس کے بعد وہاں موجود تمام ملزمان نے مل کرانہیں گالی گلوچ کی، چہرے پر تھپڑوں اورمکوں سے مارا پیٹا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔اس حملے کے باعث سرکاری کام شدید متاثرہوااورانتخابی نظرثانی مہم میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ موقع پر موجود عملہ کے ارکان شیخ جامین اور سید حسن نے مداخلت کرتے ہوئے جھگڑا ختم کرایا اور صورتحال کو قابو میں لایا۔ اس واقعے کے سلسلے میں پرلی سٹی پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہیت 2023 کی مختلف دفعات کے تحت چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس ہیڈ کانسٹیبل پروشوتم بنسیدھر کالے اس مقدمے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے