عالمی حکمت عملی کی تشکیل میں امریکی پیشہ ورانہ عسکری تعلیم کا کردار
سید سلیمان اختر، امریکی سفارتخانہ، نئی دہلی فوجی تربیت کا تصور آتے ہی عموماً ہمارے ذہن میں کیچڑ سے لتھڑے رنگروٹوں کی تصاویر ابھرتی ہیں، جو سخت جسمانی مشقوں یا رائفل چلانے کی تربیت میں مصروف ہوتے ہیں۔ مگر فوجی تعلیم کا ایک دوسرا، کم معروف پہلو بھی ہ
امریکی پیشہ ورانہ عسکری تعلیم ۔۔۔۔ علامتی تصویر

سید سلیمان اختر، امریکی سفارتخانہ، نئی دہلی

فوجی تربیت کا تصور آتے ہی عموماً ہمارے ذہن میں کیچڑ سے لتھڑے رنگروٹوں کی تصاویر ابھرتی ہیں، جو سخت جسمانی مشقوں یا رائفل چلانے کی تربیت میں مصروف ہوتے ہیں۔ مگر فوجی تعلیم کا ایک دوسرا، کم معروف پہلو بھی
ہے: کلاس روم، جہاں پیشہ ورانہ فوجی تعلیم کے لازمی حصے کے طور پر افسران کی فکری اور ذہنی صلاحیتوں کو جِلا بخشی جاتی ہے۔دفاعی امور کے تجزیہ کار رام کرشنن رمانی نے حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام ”وی دی پیپُل: امریکہ میں فوجی تعلیم “ کے تحت امریکہ کے دورے کے دوران ان ادارہ جاتی ڈھانچوں کا قریب سے جائزہ لیا۔ رمانی، جو چنئی کے ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف مدراس میں دفاعی اور اسٹریٹجک امور کی تدریس سے وابستہ ہیں، نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی پیشہ ورانہ فوجی تعلیم کے نصاب، اس کے ڈیزائن اور مختلف اداروں کے باہمی روابط کا مطالعہ کیا۔ اس دوران انہوں نے پیشہ ورانہ فوجی تعلیم سے متعلق خصوصی سیمیناروں میں شرکت کی، جنگی منظر ناموں پر مبنی عملی مشقوں میں حصہ لیا اور مختلف شہروں میں فوجی تعلیم کے ماہرین اور سرکاری نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا۔
رمانی بتاتے ہیں’’دنیا کی دیگر پیشہ ور افواج کی طرح امریکہ میں بھی پیشہ ورانہ فوجی تعلیم ایک ایسا مسلسل تعلیمی سفر ہے جو فوجی افسران کو محض جنگی مہارتوں کے ماہر نہیں بناتا بلکہ حکمت عملی پر گہری نظر رکھنے والے راہنما بناتا ہے۔“ ان کے مطابق اس نظام میں اسٹریٹجک سوچ ایک ایسی صلاحیت ہے جس کا مسلسل نکھارنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں ”اسی لیے کلاس روم میں تعلیم وتربیت کسی افسر کی ملازمت یا پیشہ ورانہ ذمہ داری کا بنیادی حصہ ہے، کوئی اضافی مشغلہ نہیں۔“

فوجی قیادت اور مشترکہ عسکری خدمات کی بنیادیں

اس جامع تعلیمی نظام کا آغاز ابتدائی مرحلے ہی سے ہو جاتا ہے، جہاں طلبہ کو عملی فوجی خدمات میں شامل ہونے سے پہلے ہی اسٹریٹجک سوچ اور حکمت عملی کے بنیادی اصول سکھائے جاتے ہیں۔

رمانی نے اس نظام کا عملی مشاہدہ پینساکولا ہائی اسکول اور کولوراڈو فوجی اکادمی میں کیا جہاں امریکی فضائیہ کے جونیئر ریزرو آفیسرس ٹریننگ کور (جے آر او ٹی سی) کا پروگرام چلایا جاتا ہے۔ یہ امریکی مسلح افواج کے زیر اہتمام ایک وفاقی پروگرام ہے جو امریکہ بھر کے ہائی اسکولوں میں نافذ ہے۔ رمانی کے مطابق ”آٹھویں جماعت اور اس سے اوپر کے طلبہ کو پریڈ کی مشقوں کے ساتھ ساتھ فوجی سائنس کی بنیادی تعلیم، فوجی تاریخ، عالمی امور کے بنیادی تصورات اور جدید ٹیکنالوجیوں مثلاً ڈرون کی تیاری اور انہیں اڑانے، سیٹلائٹ پر مبنی راہنمائی کا نظام اور دیگر متعلقہ شعبوں سے بھی روشناس کرایا جاتا ہے۔“
اعلیٰ تعلیم کے مرحلے میں یہ طلبہ فوجی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے قائم خصوصی تعلیمی پروگراموں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ رمانی کے مطابق ”عموماً ہائی اسکول سے فارغ ہونے والے طلبہ ویسٹ پوائنٹ جیسی سروس اکادمیوں کا رخ کرتے ہیں جب کہ کالج کے طلبہ ریزرو آفیسرس ٹریننگ کور(آر اوٹی سی ) میں شامل ہوکر فوجی قیادت کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔“
جوں جوں فوجی افسر ترقی کی منازل طے کرتے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت کا انداز بھی بدلتا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں زور عملی جنگی مہارتوں اور میدانِ عمل میں قیادت پر ہوتا ہے، تاکہ نیا کمیشن یافتہ افسر اپنے فوجی دستے (پلاٹون) کی مؤثر اور محفوظ انداز میں رہنمائی کرتے ہوئے مشن مکمل کر سکے۔ لیکن چند برس کی خدمات، عموماً میجر کے عہدے تک پہنچنے پر، افسر ایک بار پھر کلاس روم میں واپس آتے ہیں، جہاں ان کی پیشہ ورانہ تعلیم کا اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔رمانی کہتے ہیں ”تربیت کے اسی مرحلے میں افسر یہ سیکھتے ہیں کہ فوج کی مختلف شاخیں باہمی ہم آہنگی اور قریبی تعاون کے ساتھ کس طرح کام کرتی ہیں تاکہ وسیع تر اسٹریٹجک مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔“

امریکی وار کالجز اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک جھلک

اس ادارہ جاتی نظام کی حقیقی اہمیت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب فوجی افسر دفاعی قیادت کے اعلیٰ ترین مناصب کی جانب بڑھتے ہیں۔ اسی مرحلے پر وہ ممتاز وار کالجز میں داخلے کے اہل ہوتے ہیں۔ رمانی کے بقول ”یہ وہ مرحلہ ہے جب انہیں محض میدانِ جنگ کی سوچ سے آگے بڑھ کر ایک مدبر رہنما کی نظر اپنانی ہوتی ہے۔“
اعلیٰ سطح پر یہ تعلیمی نظام مختلف عسکری شاخوں کے مخصوص تعلیمی اداروں اور مشترکہ فوجی اداروں کے ایک باہم مربوط نظام کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جس کی اعلیٰ ترین کڑی واشنگٹن، ڈی سی میں واقع نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ہے۔

رمانی کے مطابق ”امریکی آرمی وار کالج جیسے اداروں کا مقصد ایسے رہنما تیار کرنا ہے جو پیچیدہ اور غیر روایتی مسائل کا تجزیہ کر سکیں اور ملکی سیاسی قیادت کو دفاعی امور پر مؤثر عسکری مشورے دے سکیں۔“ وہ بتاتے ہیں کہ معاشیات اور بین الاقوامی تعلقات کا تجزیاتی اور تحقیق پر مبنی مطالعہ افسران کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ قومی مفادات کے حصول کے لیے فوج اہم ضرور ہے، مگر وہ ریاست کے پاس موجود کئی ذرائع میں سے صرف ایک ذریعہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کو قومی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے امریکی وار کالجز باہمی اشتراک پر مبنی تعلیمی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ رمانی کہتے ہیں”یہاں فوجی افسر مختلف سرکاری اداروں کے سول حکام اور دوست و اتحادی ممالک سے آنے والے فوجی افسران کے ساتھ ایک ہی کلاس روم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔“ ان کے بقول”اس متنوع تعلیمی ماحول کی بدولت وہ پیچیدہ عالمی مسائل کو باہمی تعاون سے سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہے۔“

پیشہ ورانہ فوجی تعلیم اورشہری جامعات کے درمیان ربط

امریکہ میں قومی سلامتی کی تعلیم کا نظام دو متوازی دھاروں پر استوار ہے، جہاں ایک طرف فوج کی منظم پیشہ ورانہ تعلیم ہے، تو دوسری جانب شہری جامعات کی متنوع علمی مہارت اور تحقیقی صلاحیتوں سے بھی بھرپور استفادہ کیا جاتا ہے۔ جانس ہاپکنس اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (ایس اے آئی ایس )، ہارورڈ کینیڈی اسکول اور پرنسٹن اسکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرس جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے قومی سلامتی سے متعلق فکری رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعلیٰ صلاحیت کے حامل فوجی افسران کو باقاعدگی سے نیشنل سیکورٹی فیلو کی حیثیت سے ان جامعات میں بھیجا جاتا ہے، تاکہ وہ نئے علمی زاویوں سے استفادہ کریں اور روایتی فوجی سوچ کو وسیع تر تناظر سے ہم آہنگ کر سکیں۔
وار کالجز میں شہری ماہرین تعلیم کی شمولیت بھی اس نظام کی ایک اہم خصوصیت ہے، جو تدریس میں علمی گہرائی اور نئے زاوی? فکر کا اضافہ کرتی ہے۔ رمانی کے مطابق ”اعلیٰ وار کالجز میں اساتذہ کا ایک نمایاں حصہ ایسے شہری ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے جو پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں اور فوجی تاریخ، بین الاقوامی تعلقات اور اسٹریٹجک مطالعات کے ممتاز اساتذہ اور محققین ہوتے ہیں۔“
یہ تعلیمی اشتراک صرف تدریس تک محدود نہیں، بلکہ مشترکہ ڈگری پروگراموں اور مضبوط تحقیقی شراکت داریوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، امریکی اسپیس فورس، جانس ہاپکنس اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اشتراک سے شریور اسپیس اسکالرس پروگرام چلاتی ہے، جس کے تحت فوجی اہلکار شہری تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے فوجی حکمت عملی میں ماسٹرس ڈگری حاصل کرتے ہیں۔

حقیقت سے قریب جنگی مشقوں کی اہمیت

جوں جوں افسر اعلیٰ قیادت کے مناصب تک پہنچتے ہیں، ان کے نصاب کا رخ ایسے پروگراموں کی طرف ہو جاتا ہے جن میں مختلف عسکری شاخوں، سرکاری اداروں، حکومتی محکموں اور دوست و اتحادی ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون پر زور دیا جاتا ہے، تاکہ مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
رمانی نے اپنے دورے کے دوران جن تدریسی طریقوں کا عملی مشاہدہ کیا، ان میں ایک نہایت مؤثر طریقہ حقیقی حالات کی نقل پر مبنی مشق تھا، جس کے ذریعے نظریاتی تعلیم کو حقیقی حالات میں فیصلہ سازی کی عملی صلاحیت میں ڈھالا جاتا ہے۔ انہیں خود بھی اس نوعیت کی ایک مختصر مشق میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ رمانی کہتے ہیں ”پیشہ ورانہ فوجی تعلیم میں پیچیدہ اور پہلے سے غیر طے شدہ جنگی منظرناموں پر مبنی مشقیں کرائی جاتی ہیں، جن میں طلبہ کو تیزی سے بدلتی ہوئی بحرانی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں فرضی مخالف کی ہر نئی چال کا مؤثر جواب دینا ہوتا ہے۔“
ان عملی مشقوں اور تجزیاتی طریقۂ کار کے ذریعے اعلیٰ فوجی افسران کو جدید دور کے غیر روایتی خطرات کا پیشگی اندازہ لگانے اور ان سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ رمانی کہتے ہیں ”نیشنل وار کالج جیسے اداروں میں زیر تربیت افسران ماضی کے تجربات، خفیہ معلوما ت پر مبنی تجزیوں اور عالمی سیاسی عوامل کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تاکہ مختلف عالمی قوتوں کی صلاحیتوں اور ممکنہ عزائم کا درست اندازہ لگا سکیں۔ اس عمل میں خاص طور پر غیر روایتی خطرات، مثلاً سائبر حملوں، گمراہ کن اطلاعات اور معاشی دباؤ کے ذریعے اثرانداز ہونے کی حکمت عملی پر توجہ دی جاتی ہے۔“
وہ مزید کہتے ہیں ”’ریڈ ٹیمنگ‘ جیسی مشقوں کے ذریعے طلبہ کو اپنی قائم شدہ سوچ اور مفروضوں پر تنقیدی نظر ڈالنے، آپریشنل منصوبوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور نئی عسکری حکمت عملیوں کی مختلف حالات میں مو?ثریت کو جانچنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ “

ادارہ جاتی ہم آہنگی اور دفاعی سفارت کاری

یہ پورا تعلیمی نظام اس انداز سے تشکیل دیا گیا ہے کہ افسران میں مکمل حکومتی ہم آہنگی کے تصور کو فروغ ملے، جس کے تحت قومی مقاصد کے حصول کے لیے مختلف سرکاری ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ نصاب میں بھی اس تصور کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے، تاکہ افسران یہ سمجھ سکیں کہ مختلف تعیناتیوں اور کاروائیوں کے دوران فوج، شہری قیادت کے معاون ادارے کے طور پر کسی طرح اپنا کردا ادا کرتی ہے۔ رمانی کہتے ہیں ”مثال کے طور پر افسران یہ سیکھتے ہیں کہ نیشنل سکوریٹی کونسل انٹیلی جنس معلومات کو کس طرح یکجا کرتی ہے اور اندرونِ ملک ہنگامی حالات یا بیرونِ ملک کاروائیوں، خصوصاً انسدادِ دہشت گردی کے معاملات میں پینٹاگون، محکمہ خارجہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کے درمیان رابطے اور مشترکہ کاروائیوں کو کس طرح مربوط بناتی ہے۔“
سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر یہ توجہ اعلیٰ ترین قائدانہ تربیت تک برقرار رہتی ہے، جہاں مختلف حکومتی اداروں کے مابین رابطے اور اشتراکِ عمل کی عملی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ رمانی کہتے ہیں ”اعلیٰ سطح کی تربیت میں قائدین کیپ اسٹون کورسز میں شرکت کرتے ہیں، جن میں گہرے عملی مطالعات اور مشقوں کے ذریعے سفیروں، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے اور اشتراکِ عمل کی حقیقی صورتِ حال کی مشق کرائی جاتی ہے۔“

انسانی وسائل سب سے قیمتی سرمایہ

جو ممالک اپنی مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے امریکی پیشہ ورانہ تعلیمی نظام کا ادارہ جاتی ڈھانچہ ایک مؤثر اور دیرپا نمونہ پیش کرتا ہے۔ رمانی کہتے ہیں ” جب ہم کسی ملک کی مضبوط دفاعی تیاری کا جائزہ لیتے ہیں تو ہماری توجہ عموماً ہتھیاروں اور فوجی ساز وسامان پر مرکوز ہوتی ہے۔ لیکن امریکی پیشہ ورانہ فوجی تعلیمی نظام یہ ثابت کرتا ہے کہ کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اسٹریٹجک سرمایہ دراصل اس کے تربیت یافتہ افراد، ان کی علمی صلاحیت اور فکری استعداد ہوتی ہے۔ اس نظام میں ذہنی و فکری صلاحیتوں کی نشوونما کو قومی دفاع کی بنیادی صلاحیت تصور کیا جاتا ہے۔“

بالآخر، حقیقی دفاعی تیاری کا انحصار صرف جدید ٹیکنالوجی کے حصول پر نہیں، بلکہ باصلاحیت افراد کی تربیت اور ان کی فکری صلاحیتوں کی مسلسل آبیاری پر بھی ہوتا ہے۔ ایک مضبوط اور جامع تعلیمی نظام کے ذریعے ایسے قائدین تیار کیے جا سکتے ہیں جو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہی صلاحیت کسی بھی ملک کو مستقبل کے غیر متوقع عالمی تنازعات کا مؤثر انداز میں سامنا کرنے کے لیے تیار رکھتی ہے۔
رمانی کو امریکی پیشہ ورانہ فوجی تعلیمی نظام کی جس خصوصیت نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ جامد نظریات پر انحصار کے بجائے تجزیاتی سوچ اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت پر اس کا زور تھا۔ رمانی کہتے ہیں ”امریکی پیشہ ورانہ فوجی تعلیمی نظام ایسے قائدین تیار کرنے کا ایک مؤثر نمونہ پیش کرتا ہے جو آج کی سلامتی کی غیر یقینی صورت حال میں دانش مندی سے رہنمائی کر سکیں۔ تعلیم اور اسٹریٹجک سوچ میں سرمایہ کاری کے ذریعے ممالک ایسے رہنما تیار کر سکتے ہیں جو نہ صرف آج کے تنازعات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں بلکہ مستقبل کےاسٹریٹجک ماحول کا پیشگی اندازہ لگانے، اس کے مطابق خود کو ڈھالنے اور اسے مثبت سمت دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔“

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande