
جودھپور ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ سے رجوع کرنے کی ہدایت۔ آئینی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رہے گی: مولانا محمود اسعد مدنی
نئی دہلی، 17 جولائی(ہ س )۔
راجستھان کے سرحدی اضلاع میں مساجد، مدارس، درگاہوں، مکانات اور دیگر تعمیرات کے خلاف جاری انہدامی کارروائیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج جمعیة علماء ہند کی جانب سے دائر خصوصی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو اہم عبوری راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ املاک کے خلاف دو ہفتوں تک تمام انہدامی کارروائیوں پر روک عائد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ درخواست گزار اپنے قانونی اور آئینی نکات کے ساتھ راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویڑن بنچ سے رجوع کریں۔
صدر جمعیة علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائر اس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیة کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اور مو¿ثر دلائل پیش کیے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہر حکیم اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصور علی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اور جسٹس الو ک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔
واضح رہے کہ 20 جون 2026کوجمعیة علماءہند کا ایک اعلیٰ سطحی وفد راجستھان کے متاثرہ سرحدی اضلاع پہنچاتھا جس نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہدامی کارروائیوں کی تفصیلات جمع کیں۔ وفد کی رپورٹ کی بنیاد پر متاثرین کی جانب سے تقریباً 40 عرضیاں راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور میں دائر کی گئیں ، جب کہ دیگر متاثرین نے بھی انفرادی طور پر عدالت سے رجوع کیاجس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 60 مقدمات عدالت کے سامنے آئے۔7 جولائی کو دلائل مکمل ہونے کے بعد راجستھان ہائی کورٹ نے 13 جولائی کو اپنا فیصلہ سنایا، تاہم مطلوبہ قانونی راحت نہ ملنے پر جمعیة علماء ہند نے فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس درمیان جمعیة علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی ، نائب صدر جمعیة علمائ ہند مولانا قاری محمد امین ، صدر جمعیة علماء راجستھان مولانا حبیب اللہ قاسمی ، ناظم اعلی ٰمولانا عبد الواحد کھتری وغیرہ لگاتا ر متاثرین اور وکلاء سےر ابطے میں رہے۔ ایڈوکیٹ طاہر حکیم نے ہائی کورٹ میں بھی جمعیة علماء ہند کی نمائندگی کی۔
آج سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ مکانات، مساجد، مدارس اور دیگر املاک کے خلاف مسلسل انہدامی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ سیکڑوں مذہبی و رہائشی املاک کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ کسی بھی مذہبی مقام یا شہری کی ملکیت کے خلاف کارروائی صرف آئین، قانون اور فطری انصاف کے اصولوں کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، نہ کہ انتظامی اختیارات کے یکطرفہ استعمال کے ذریعے۔ اس لیے اگر فوری عبوری تحفظ نہ دیا گیا تو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے دو ہفتوں تک انہدامی کارروائی پر عبوری روک لگاتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں متنازع حقائق کا تفصیلی جائزہ متعلقہ ہائی کورٹ ہی لے سکتی ہے۔ اسی لیے عدالت نے عرضی گزاروں کو راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویژن بنچ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت آج ایک بار پھر اپنے 13 نومبر 2024 کے تاریخی فیصلے میں طے کردہ اصولوں کا بھی حوالہ دیا اور واضح کیا کہ کسی بھی انہدامی کارروائی میں قانونی طریقہ¿ کار، قدرتی انصاف اور آئینی ضمانتوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں عوامی اراضی پر غیر مجاز تجاوزات ثابت ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم ہر مقدمہ اپنے حقائق کے مطابق پرکھا جائے گا اور سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں متعلقہ ہائی کورٹ مناسب فیصلہ کرے گی۔
دریں اثنا جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویڑن بنچ سے فوری رجوع کریں گے۔ جمعیة علماء ہند متاثرہ شہریوں، مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر پوری قوت کے ساتھ مقدمہ لڑتی رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ قانون اور انصاف کی بالادستی قائم ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais