شعب، علم الادویہ، اے ایم یو کے ہربل گارڈن میں ‘‘ایک پیڑ ماں کے نا م’’ مہم کے تحت شجرکاری
شعب، علم الادویہ، اے ایم یو کے ہربل گارڈن میں ‘‘ایک پیڑ ماں کے نا م’’ مہم کے تحت شجرکاری علی گڑھ، 17 جولائی (ہ س)۔ ماحولیات کے تحفظ، سرسبز و شاداب مستقبل اور طبی افادیت رکھنے والے نباتات کے فروغ کے مقصد سے شعبہ علم الادویہ، اجمل خاں طبیہ کالج، علی
شجر کاری


شعب، علم الادویہ، اے ایم یو کے ہربل گارڈن میں ‘‘ایک پیڑ ماں کے نا م’’ مہم کے تحت شجرکاری

علی گڑھ، 17 جولائی (ہ س)۔ ماحولیات کے تحفظ، سرسبز و شاداب مستقبل اور طبی افادیت رکھنے والے نباتات کے فروغ کے مقصد سے شعبہ علم الادویہ، اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام بی یو ایم ایس سالِ دوم کے طلبہ نے شعبہ کے ہربل گارڈن میں شجرکاری کی۔ یہ مہم حکومت ہند کی قومی مہم ‘‘ایک پیڑ ماں کے نام’’ کے تحت انجام دی گئی۔

اس موقع پر شعبہ کی جانب سے ہر طالب علم کو ایسے پودے لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی جو طب یونانی اور دیگر روایتی نظامِ علاج میں بطور دوا استعمال ہوتے ہوں۔ طلبہ نے مختلف اقسام کے مفید ادویاتی پودے لگا کر نہ صرف ماحولیات کے تحفظ کا عزم کیا بلکہ ہربل گارڈن کو علمی و تحقیقی اعتبار سے بھی مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

شعبہ علم الادویہ کے چیئرمین پروفیسر عبدالرؤف نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شجرکاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور ‘‘ایک پیڑ ماں کے نام’’ جیسی مہم معاشرے میں ماحولیات دوست فکر کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سنبل رحمان اور ڈاکٹر حماد نے طلبہ کو شعبہ کے ہربل گارڈن کی مٹی اور موسمی حالات کے مطابق موزوں نباتات کی فہرست فراہم کی جس کی مدد سے طلبہ نے مناسب پودوں کا انتخاب کرکے شجرکاری میں حصہ لیا۔شعبہ کے غیر تدریسی عملہ نے بھی اس مہم میں طلبہ کی مدد کی۔

شعبہ کے اس اقدام سے نہ صرف ہربل گارڈن میں ادویاتی نباتات کے ذخیرے میں اضافہ ہوگا بلکہ طلبہ کو دورانِ تعلیم مختلف نباتات، ان کے ادویاتی اجزاء، نباتاتی خصوصیات اور طبی استعمالات کا عملی مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملے گا جو ان کی تعلیمی و تحقیقی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گا۔ طلبہ نے اس موقع پر اپنے لگائے ہوئے پودوں کی مستقل نگہداشت کا عزم ظاہر کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande