کین-بیتوا منصوبے میں بے ضابطگیوں کے الزامات، حزب اختلاف رہنما نے دستاویزات کی بنیاد پر اٹھائے سوال، حکومت سے جواب مانگا
کین-بیتوا منصوبے میں بے ضابطگیوں کے الزامات، حزب اختلاف رہنما نے دستاویزات کی بنیاد پر اٹھائے سوال، حکومت سے جواب مانگابھوپال، 17 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں حزب اختلاف رہنما اور کانگریس لیڈر امنگ سنگھار نے جمعہ کے روز بھوپال میں منعقدہ پر
حزب اختلاف رہنما نے دستاویزات کی بنیاد پر اٹھائے سوال


کین-بیتوا منصوبے میں بے ضابطگیوں کے الزامات، حزب اختلاف رہنما نے دستاویزات کی بنیاد پر اٹھائے سوال، حکومت سے جواب مانگابھوپال، 17 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں حزب اختلاف رہنما اور کانگریس لیڈر امنگ سنگھار نے جمعہ کے روز بھوپال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کین-بیتوا لنک منصوبے کو لے کر کئی سنگین الزامات لگائے ہیں۔

دراصل، انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 44 ہزار کروڑ روپے کے اس منصوبے میں گرام سبھا کے عمل، معاوضے کی تقسیم، زمین کے ریکارڈ، بازآبادکاری، پولیس کارروائی اور ٹھیکے کی الاٹمنٹ سمیت مختلف سطحوں پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ان تمام معاملات کی آزادانہ جانچ کرانے اور حکومت سے عوامی جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

امنگ سنگھار نے بتایا کہ گزشتہ 14 جولائی کو انہوں نے چھترپور ضلع کی بجاور تحصیل میں واقع کوپی گاوں سمیت منصوبے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ ان کے مطابق، متاثرہ کسانوں، قبائلی خاندانوں اور گاوں والوں سے بات چیت کے دوران کئی دستاویزات اور شکایتیں سامنے آئیں، جنہیں انہوں نے ’’دی کین-بیتوا فائلز‘‘ کے نام سے عام کیا۔

حزب اختلاف رہنما نے الزام لگایا کہ منصوبے سے متاثرہ گاوں میں قانون کے مطابق گرام سبھا کے عمل کی پیروی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی گاوں والوں کو سوشل امپیکٹ اسیسمنٹ (ایس آئی اے) کی معلومات نہیں دی گئیں اور انہیں اس عمل میں شامل بھی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ گرام پنچایتوں کے کارروائی رجسٹروں میں ایک جیسی زبان درج ہے اور الگ الگ پنچایتوں میں ایک ہی وقت پر گرام سبھا کی میٹنگیں دکھائی گئی ہیں، جس سے اس عمل کی نفاست پر سوال اٹھتے ہیں۔

سنگھار نے کھریہانی گرام پنچایت کے ایک رجسٹر کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ 17 فروری 2022 کی کارروائی میں ایسے شخص کے دستخط درج ہیں، جس نے اس وقت سرپنچ کا عہدہ سنبھالا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے اسے سنگین دستاویزی بے ضابطگی قرار دیتے ہوئے جانچ کا مطالبہ کیا۔

حزب اختلاف رہنما نے الزام لگایا کہ کھریہانی گاوں میں منظور شدہ معاوضے کا بڑا حصہ ایسے لوگوں کو دیا گیا، جو برسوں پہلے گاوں چھوڑ چکے تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک ایسے مسلم خاندان کے نام بھی معاوضہ منظور کیا گیا، جو گاوں والوں کے مطابق کبھی گاوں میں رہتا ہی نہیں تھا۔ وہیں کئی حقیقی متاثرہ خاندان اب بھی معاوضے سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے 500 سے زائد ایسے معاملات کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سنگھار نے سکواہا گاوں کی ایک قبائلی خاتون کی مثال دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی معلومات کے بغیر زمین کسی دوسرے شخص کے نام درج کر دی گئی اور اسی کی بنیاد پر معاوضہ بھی منظور ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ التوا ہونے کی وجہ سے متعلقہ خاتون کو اب تک معاوضہ نہیں مل سکا ہے۔

پریس کانفرنس میں سنگھار نے الزام لگایا کہ تحریک چلانے والے کسانوں اور قبائلیوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، کئی لوگوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج کیے گئے اور کچھ لوگوں سے حراست کے دوران رقم کی وصولی کی شکایتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ خواتین کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی۔ ان الزامات کی منصفانہ جانچ کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔

حزب اختلاف رہنما نے کہا کہ منصوبے کو ملی جنگلاتی منظوری کی شرائط کے مطابق بازآبادکاری اور زمین کی منتقلی کا عمل پہلے پورا ہونا چاہیے تھا۔ ان کا الزام ہے کہ اس کے باوجود بازآبادکاری اور معاوضے سے جڑے کئی معاملات زیرِ التوا رہتے ہوئے تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔

سنگھار نے الزام لگایا کہ منصوبے سے متعلق تعمیراتی کمپنی نے الیکٹورل بانڈ کے ذریعے بی جے پی کو 60 کروڑ روپے کا چندہ دیا اور بعد میں اسے منصوبے میں بڑا ٹھیکہ ملا۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ ٹھیکے کی الاٹمنٹ کا عمل پوری طرح شفاف تھا یا نہیں۔

حزب اختلاف رہنما نے کہا کہ کین-بیتوا منصوبہ صرف ترقی کا مسئلہ نہیں، بلکہ قبائلی حقوق، کسانوں کے مفاد، شفافیت اور قانون کی پاسداری سے جڑا موضوع ہے۔ انہوں نے گرام سبھا کے عمل، معاوضے کی تقسیم، زمین کے ریکارڈ، بازآبادکاری، پولیس کارروائی اور ٹھیکے کی الاٹمنٹ کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ کرانے کے ساتھ سوشل آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ پنا ضلع میں کین-بیتوا لنک منصوبے سمیت دیگر منصوبوں سے متاثرہ قبائلی اور کسان مناسب معاوضے اور بازآبادکاری کی مانگ کو لے کر جل ستیہ گرہ اور دھرنا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، ان کی تحریک جاری رہے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande