
چنئی، 16 جولائی (ہ س)۔ تمل ناڈو ویتری کزگم (ٹی وی کے ) حکومت کی دوسری کابینہ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ وجے نے وزرا کوبدعنوانی اور نظم و ضبط کے معاملے پرسخت پیغام دیا ۔ انہوں نے جمعرات کو سکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگرکسی وزیر پر سنگین رشوت یا بدعنوانی کے الزام سامنے آتے ہیں تو اسے فوری طور پر کابینہ سے ہٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت میں کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ ان کی حکومت مکمل طور پر شفاف، جوابدہ اور عوامی مفاد کے لیے وقف ہوگی۔ انہوں نے وزرا سے کہا کہ اگر کسی محکمے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی یا بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوئیں تو متعلقہ وزیر ذمہ دار ہوں گے اور بلا تفریق فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ متعلقہ شخص طویل عرصے سے پارٹی سے وابستہ ہے یا کسی اور پارٹی سے آیا ہے۔
اجلاس کے دوران، وزیراعلیٰ نے وزرا اور پارٹی عہدیداروں کوسرکاری دفاتر اورا سکولوں میںمعائنے کے نام پر غیر ضروری مداخلت سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی تعلیم میں خلل ڈالنا مناسب نہیں ہے، خاص طور پر اسکول کے اوقات میں سرکاری اسکولوں کا دورہ کرنا۔ انہوں نے اسکول کے معائنے کے دوران ویڈیو بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے رجحان پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ وزراءاور پارٹی عہدیداروں کی حالیہ سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت کو غیر ضروری تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ معائنہ صرف انتظامی ضرورت کی بنیاد پر کیا جائے نہ کہ تشہیر کے مقصد سے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ”ریلز“ بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانے کے رجحان سے گریز کیا جائے اور عوامی نمائندوں کو تشہیر کی بجائے اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
وجے نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل اسکولوں میں وزیر اعلی کی تصویر آویزاں کرنے اور ان کی تقاریر کو لائیو اسٹریم کرانے جیسی سرگرمیوں میں ملوث کچھ پرنسپل اور پارٹی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے ۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ضابطے کے خلاف ورزی پر اسی طرح کی سخت کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
محکمہ خزانہ کے افسران سے موصول ہونے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دور میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا اور ان کو ختم کرنا اور سرکاری ریونیو میں اضافہ کرنا ہر وزیر کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزرا کے درمیان صحت مند مقابلہ ہونا چاہئے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون اپنے محکموں میں شفافیت کو بڑھا کر اور بے قاعدگیوں کو ختم کر کے حکومت کو سب سے زیادہ ریونیو حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ہر محکمے کے کام کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت کی پہلی کابینہ کا اجلاس بنیادی طور پر مختلف ترقیاتی اسکیموں کی منظوری پر مرکوز تھا جب کہ دوسرے اجلاس کا بنیادی مقصد وزرا کو اچھی طرز حکمرانی ، شفافیت، احتساب اور نظم و ضبط کے حوالے سے واضح ہدایات دینا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد