اسٹاک مارکیٹ میں معمولی اضافہ کے ساتھ ہیپی اسٹیلز کی انٹری، لسٹنگ کے بعد حصص میں تیزی آئی
نئی دہلی، 16 جولائی(ہ س)۔ برقی گاڑیوں اور دفاعی ایپلی کیشنز کے لیے ایکسلز،سافٹ اور اسپنڈل جیسی اشیاء تیار کرنے والی کمپنی ہیپی اسٹیلز لمیٹڈ کے حصص آج معمولی اضافہ کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 66 روپے کی قیمت پر
شیئر


نئی دہلی، 16 جولائی(ہ س)۔ برقی گاڑیوں اور دفاعی ایپلی کیشنز کے لیے ایکسلز،سافٹ اور اسپنڈل جیسی اشیاء تیار کرنے والی کمپنی ہیپی اسٹیلز لمیٹڈ کے حصص آج معمولی اضافہ کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 66 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، یہ این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 3.03 فیصد کے پریمیم کے ساتھ 68 روپے پر درج ہوا۔ لسٹنگ کے بعد خریداری کی وجہ سے کمپنی کے حصص تھوڑے ہی عرصے میں 71.40 روپے کے اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ گئے۔ تاہم اس کے بعد سیل آف کی وجہ سے اپر سرکٹ ٹوٹ گیا۔دوپہر 11:45بجے تک، کمپنی کے حصص70.80 روپے پر تجارت کر رہے تھے۔ اب تک ٹریڈنگ میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے فی حصص 4.80روپے یعنی 7.27 فیصد کا فائدہ ہوگیاتھا۔

کمپنی کا 25 کروڑ روپے کا آئی پی او 9 جولائی سے 13 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے خوب پذیرائی ملی، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 54.54 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان کو اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 59.01 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 113.60 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 73.25 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 37.88 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کو نئی مشینری خریدنے، پرانے قرض کو کم کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

ہیپی اسٹیلز لمیٹڈ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں کیے گئے دعوے کے مطابق، اس کی مالی صحت میں اتار چڑھاو¿ رہا ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 4.69کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال2024تا2025 میں گھٹ کر 2.34 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں، کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 7.10 کروڑ ہو گیا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں، اس نے 82.24 کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025 میں معمولی طور پر بڑھ کر 82.52 کروڑ ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے دوران، کمپنی کی آمدنی کیوصولیابی میں تیزی آئی۔ اس سال کمپنی نے 96.57 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023-2024کے اختتام پر کمپنی پر35.69 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اگلے مالی سال 2024-2025کے اختتام پر معمولی طور پر کم ہو کر 34.21 کروڑ روپے رہ گیا۔ اگلے سال کے آخر تک یعنی پچھلے مالی سال 2025-2026تک کمپنی کا قرض کا بوجھ بڑھ کر 47.18 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023-2024کے اختتام پر، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس 29.04 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2024-2025 میں بڑھ کر 31.38 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال 2025-2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس کم ہو کر 29.48 کروڑ روپے رہ گئے تھے۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں، یہ30.54 کروڑ تھا، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 32.88 کروڑ ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں بھی کمپنی کی مجموعی مالیت میں اضافہ ہوا۔ اس مالی سال کے اختتام تک کمپنی کی مجموعی مالیت 39.98 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔

کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈایمارٹائزیشن) میں اس دوران اتار چڑھاو¿ کا شکار رہا۔ مالی سال 2023تا2024 میں، یہ 11.08 کروڑ کی سطح پرتھی ، جو 2024تا2025 میں کم ہوکر8.49 کروڑ کی سطح پر آ گیا۔ پچھلے مالی سال 2025-2026کے اختتام تک کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 15.27 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔

ہندوستھا ن سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande