عدالت نے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کو پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے معاملے میں ملزم اور بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کو آئندہ پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ خصوصی جج پرشانت شرما نے انجینئر رشید کو حراست میں رہتے ہ
عدالت نے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کو پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی


نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے معاملے میں ملزم اور بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کو آئندہ پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ خصوصی جج پرشانت شرما نے انجینئر رشید کو حراست میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شامل ہونے کی اجازت دی۔

سماعت کے دوران رکن پارلیمنٹ رشید کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل وکھیا ت اوبرائے نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 20 جولائی سے شروع ہو رہا ہے جو 13 اگست تک جاری رہے گا۔ اس سے قبل بھی عدالت انجینئر رشید کو پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دے چکی ہے۔ سماعت کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے پیش وکیل گوتم خزانچی نے کہا کہ اگر انجینئر رشید کو پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

دہلی ہائی کورٹ نے رشید کو ان کے والد کی وفات کے بعد 40ویں کی رسم میں شرکت کے لیے 25 سے 30 جون تک عبوری ضمانت دی تھی۔ انجینئر رشید کے والد کا انتقال 18 مئی کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں ہوا تھا۔

رشید نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو تقریباً ایک لاکھ ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ انجینئر رشید کو 2016 میں این آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ پٹیالہ ہاؤس عدالت نے 16 مارچ 2022 کو حافظ سعید، سید صلاح الدین، یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم، انجینئر رشید، ظہور احمد وٹالی، بٹہ کراٹے، آفتاب احمد شاہ، اوتار احمد شاہ، نعیم خان، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔

این آئی اے کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تعاون سے لشکر طیبہ، حزب المجاہدین، جے کے ایل ایف، جیش محمد جیسے تنظیموں نے جموں و کشمیر میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے اور تشدد کی کارروائیاں انجام دیں۔ سال 1993 میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے لیے آل پارٹی حریت کانفرنس قائم کی گئی تھی۔

این آئی اے کے مطابق حافظ سعید نے حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر حوالہ اور دیگر ذرائع کے ذریعے دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے رقم کا لین دین کیا۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ اس رقم کا استعمال وادی میں بدامنی پھیلانے، سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے، اسکولوں کو جلانے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا۔

این آئی اے نے اس معاملے میں آئی پی سی کی دفعات 120 بی، 121، 121 اے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کی دفعات 13، 16، 17، 18، 20، 38، 39 اور 40 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande