
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کے سابق وزرائے اعلی اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے جس میں دہلی ایکسائز اسکیم معاملہ میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے 23 ملزمان کو بری کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس منوج جین کی بنچ نے اس معاملے کی مزید سماعت 17 اور 18 اگست کو مقرر کی ہے۔
جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے کسی بھی ملزم کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور اے ایس جی ایس وی راجو سی بی آئی کی طرف سے پیش ہوئے۔ جسٹس منوج جین سے پہلے یہ معاملہ جسٹس سورن کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ کے سامنے درج تھا۔ کیجریوال، سسودیا اور درگیش پاٹھک نے جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ کیجریوال نے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں جسٹس سورن کانتا شرما کو کیس کی سماعت سے باز رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ جسٹس شرما نے درخواست خارج کر دی تھی۔ بعد میں، عام آدمی پارٹی کے چھ رہنماو¿ں کے خلاف توہین کی کارروائی شروع کی گئی اور معاملہ کو سماعت کے لیے ایک اور بنچ کے پاس بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد کیس جسٹس منوج جین کی بنچ کے سامنے درج کیا گیا تھا، جبکہ توہین عدالت کی کارروائی جسٹس نوین چاولہ کی بنچ کے سامنے درج تھی۔
27 فروری کو راوز ایونیو کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔ راوز ایونیو کورٹ نے کہا کہ چارج شیٹ میں اہم تضادات ہیں۔ عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ کے ہزاروں صفحات میں پیش کیے گئے حقائق گواہوں کے بیانات سے میل نہیں کھاتے۔ عدالت نے کہا کہ منیش سسودیا نے اس معاملے میں تقریباً 530 دن جیل میں گزارے۔ اروند کیجریوال نے دو الگ الگ ادوار میں 156 دن جیل میں گزارے۔ کیجریوال کو 13 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے سی بی آئی کیس میں ضمانت دینے کے بعد رہا کر دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی