
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے درمیان حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر ونڈ فال ٹیکس میں تبدیلی کی ہے۔ مرکزی حکومت نے 16 جولائی سے ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی برآمد پر ونڈ فال ٹیکس میں اضافہ کیا ہے، جبکہ پیٹرول کی برآمد پر ڈیوٹی میں کمی کی ہے۔
وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی (ایس اے ای ڈی) کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی ایکسپورٹ ڈیوٹی میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ڈیزل کی برآمد پر ونڈ فال ٹیکس 8.50 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 15.50 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ ہوا بازی کے ایندھن کی برآمد پر ٹیکس بھی 1 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 2 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح پٹرول کی برآمدات پر ڈیوٹی 4 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 1 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل 16 مئی کو پیٹرول کی برآمدات پر بھی ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔ حکومت نے مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان 27 مارچ کو ڈیزل اور ہوا بازی کے ایندھن کی برآمدات پر محصولات عائد کر دیے تھے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت ہر پندرہ دن بعد اس کی شرحوں میں ترمیم کرتی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گھریلو استعمال کے لیے نکالے گئے پٹرول اور ڈیزل پر موجودہ ڈیوٹی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق، اس ونڈ فال گین ٹیکس کا مقصد مغربی ایشیا کے بحران کے پس منظر میں پٹرولیم مصنوعات کی گھریلو دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے برآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی