
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س): پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہونے سے قبل بدھ کے روز کانگریس پارلیمانی پارٹی کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اجلاس کی صدارت سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے کی۔ اس اجلاس میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت پارلیمانی پارٹی کے اراکین موجود تھے۔ اجلاس میں آئندہ اجلاس کے لیے حزبِ اختلاف کے ایجنڈے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے بعد کانگریس صدر کھڑگے نے ایکس پر لکھا کہ چندے کی چوری، عقیدت کے ساتھ دھوکہ، پرچہ لیک اور تعلیمی نظام کی تباہی، ادارہ جاتی قبضہ، سیاسی جماعتوں کو توڑنے کی کوششیں، بدعنوانی کے الزامات، مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیاں، ایتھانول کی پیٹرول میں ملاوٹ، جنگلات کی اندھا دھند کٹائی اور ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتوں کے حقوق پر حملوں جیسے معاملات پر کانگریس پارٹی مانسون اجلاس میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ اجلاس میں ان سنگین خدشات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ان تمام مسائل کو پارلیمنٹ میں پوری مضبوطی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
اجلاس کے بعد کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش اور راجیہ سبھا کے رکن سید ناصر حسین نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ان تمام معاملات پر غور کیا گیا جنہیں پارٹی پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ حکومت جن بلوں کو پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ان سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اجلاس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا، جس میں حلقہ بندی بل، آئینی ترمیمی بل، وکست بھارت شکشا ادھشتھان بل اور ایف سی آر اے بل پر گفتگو ہوئی۔ کانگریس ان تمام بلوں کی بھرپور مخالفت کرے گی۔
رمیش نے کہا کہ حکومت نے 19 جولائی کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق معلومات دی جائیں گی۔ کل جماعتی اجلاس میں 35 افراد شریک ہوتے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے صرف چار افراد ہی اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ کانگریس حلقہ بندی بل کی مخالفت کرے گی کیونکہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اسے منظور کرانا چاہتی ہے۔ حزبِ اختلاف پہلے بھی اس کی مخالفت کر چکا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس مانسون اجلاس میں ’’دان کی چوری‘‘، عقیدت کے ساتھ دھوکہ، امتحانات اور تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں، نیٹ امتحان تنازع، ’’ای-20 گھوٹالہ‘‘، کمزور ہوتی خارجہ پالیسی اور مہنگائی جیسے معاملات کو اٹھائے گی۔ حکومت کے قول و فعل میں واضح فرق ہے۔ حزبِ اختلاف نے پہلے بھی خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کی ہے، لیکن حکومت اسے حلقہ بندی بل سے جوڑ کر منظور کرانا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 19 دن پر مشتمل ہوگا، جس میں 16 دن کارروائی چلے گی۔ کانگریس حکومت کے ہر اقدام پر سوال اٹھائے گی اور حزبِ اختلاف کے اتحاد کے ساتھ عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں پیش کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد