
تہران،13جولائی(ہ س)۔آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری برتری کی جنگ سے مغربی ایشیا میں پھر حالات سنگین ہوگئے ہیں۔ امریکی فوج نے جنوبی ایران پر تازہ حملے کئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسیوںکے مطابق سرک، بندر عباس اور جاسک کے قریب واقع دیہات کے اطراف میں دھماکے ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کو ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔
خوزستان میں مقامی حکام نے پیر کی صبح جنوبی ایران کے اس صوبے کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق خوزستان گورنریٹ کے حکام نے ان حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج رات 1:35 بجے اہواز کے اطراف میں دو مقامات کو امریکی دشمن کے میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح 1:40 بجے بہبہان اور دزفول شہروں میں مقامات پر حملے کیے گئے، اور 1:45 بجے امیدیہ اور ماہشہر میں چار مقامات دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے۔‘
دریں اثنا نیوز ایجنسی فارس نے خوزستان گورنریٹ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 2 بجے آبادان اور شادگان شہروں کے بعض حصے بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنے۔تاہم خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکے کی آواز سنے جانے کی تردید کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں جو کہ مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ملک کے جنوب میں واقع صوبہ بوشہر کے بعض حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کی تازہ لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے گذشتہ مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’ناکام بنا دیا‘ ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایرانی پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ ’وحشیانہ حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں، خصوصاً آرٹیکل 2 کی شق 4، کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کو ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت‘ کے لیے استعمال کیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے ان ملکوں کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاونت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں، ورنہ وہ ’ایرانی فوج کی دفاعی کارروائیوں کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘پیر کے روز نئے تجارتی ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کی وجہ ہفتے کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan