
بیڑ ، 13 جولائی (ہ س)۔ جرائم کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کے انقلابی استعمال کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بیڑ پولیس کی جانب سے تیار کیا گیا ڈیپ آئی اے آئی منصوبہ ریاستی سطح کی تکنیکی اور تفتیشی جانچ میں کامیاب رہا ہے۔ یہ ملک کا پہلا مکمل اینڈ ٹو اینڈ مصنوعی ذہانت پر مبنی پولیس اور تفتیشی معاون نظام ہے، جس کی پروف آف کانسیپٹ (پی او سی) جانچ بیڑ سٹی پولیس اسٹیشن میں کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی۔ اس کامیاب تجربے کے بعد اب اس منصوبے کو پورے مہاراشٹر میں نافذ کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس جدید نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ جہاں پیچیدہ مقدمات کی ایف آئی آر درج کرنے میں پہلے تین سے چار گھنٹے لگتے تھے، اب وہی کام صرف تین سے چار منٹ میں ممکن ہو گیا ہے۔ لائیو وائس، آڈیو اپ لوڈ، ای ایف آئی آر اور او سی آر ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات کا تجزیہ کرکے مصنوعی ذہانت خود بخود بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی متعلقہ دفعات بھی تجویز کرتی ہے۔
یہ نظام شکایت درج ہونے سے لے کر عدالت میں مقدمے کے فیصلے تک پوری کارروائی کو ڈیجیٹل انداز میں مربوط کرتا ہے۔ اس میں جائے وقوعہ کے پنچنامہ کا مسودہ، میڈیکل رپورٹ کا تجزیہ، گواہوں کے بیانات کا تجزیہ اور ٹرائل مانیٹرنگ جیسی جدید سہولیات بھی شامل ہیں۔
ڈیپ آئی اے آئی کی ایک اور نمایاں خصوصیت سی سی ٹی وی فوٹیج اور کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ ہے۔ اب گھنٹوں تک سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ یہ نظام خودکار طریقے سے مشتبہ افراد کی چہرہ شناسی (فیس ریکگنیشن)، مشتبہ گاڑیوں کی شناخت اور کال ریکارڈ کے تجزیے کے ذریعے ملزمان کے باہمی روابط کا سراغ لگاتا ہے۔
بیڑ ضلع میں سال 2017 سے درج تمام ایف آئی آر اور 800 سے زائد چارج شیٹس اس نظام کے نالج بیس میں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے ذریعے عادی مجرموں کا سابقہ ریکارڈ فوری طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایم پی ڈی اے اور ایم سی او سی اے جیسے قوانین کے تحت کارروائی کی ضرورت ہونے پر یہ نظام سینئر افسران کو فوری الرٹ بھی فراہم کرتا ہے
اس منصوبے کا جائزہ مسٹک اے آئی سولیوشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور آئی آئی ٹی کانپور کے سابق طالب علم راجیو سکسینہ، سی ڈیک کے جوائنٹ ڈائریکٹر مہیش بھارگوا اور آئی آئی ایس ای آر پونے کے پروفیسر پرنو گوئل پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی نے لیا۔ کمیٹی نے 65 پروف آف کانسیپٹ ٹیسٹ کیسز کے ذریعے اس منصوبے کا سخت تکنیکی جائزہ لیا۔ یہ جانچ پونے پولیس مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبہ کے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل جی۔ شری دھر کی رہنمائی میں انجام دی گئی، جس میں ماہرین نے بیڑ پولیس کی اس جدید اور اختراعی کوشش کی بھرپور ستائش کی۔
ماہرین کے مطابق ڈیپ آئی اے آئی منصوبہ تفتیشی عمل کو زیادہ تیز، مؤثر، شفاف اور درست بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف مہاراشٹر پولیس بلکہ ملک کی دیگر پولیس فورسز کے لیے بھی جدید پولیسنگ کا ایک مثالی نمونہ ثابت ہونے کی توقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے