
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س): سپریم کورٹ نے ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کو دئے گئے چندہ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے تحقیقات کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے ایس آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ طلب کیے ہیں۔ مقدمے کی اگلی سماعت 20 جولائی کو ہوگی۔
سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں مہر بند لفافے میں دائر کی جائے گی۔ یہ عرضی دو وکلا اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی ہے۔ عرضی میں مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کو مالی غبن کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے کیونکہ اس میں کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات شامل ہیں۔
عرضی میں کہا گیا کہ چندہ کی چوری کی خبر چاہے سچ ہو یا جھوٹی لیکن ان خبروں نے ان لوگوں کے اعتماد اور یقین کو نقصان پہنچایا ہے جنہوں نے ایودھیا میں رام مندر
کی تعمیر کے لیے جدوجہد کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یوپی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ ایس آئی ٹی نے کوئی ایف آئی آر درج کیے بغیر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ سے وابستہ مبینہ گمشدہ فنڈز اور دیگر بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ تحقیقات ایک ایسی تفتیشی ایجنسی کے ذریعے کی جانی چاہئیں جو پیچیدہ مالی اور مجرمانہ معاملات کی تحقیقات کے لیے مطلوبہ مہارت رکھتی ہو۔
یوپی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ ایس آئی ٹی میں لکھنؤ کے زونل کمشنر وجے وشواس پنت، آئی جی کرن ایس اور خصوصی سکریٹری مالیات نیل رتن شامل ہیں۔
اس سے قبل بھی ایک وکیل نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر معاملے کی از خود تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ایڈوکیٹ انوپ اوستھی نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یہ معاملہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی عدالت کی نگرانی کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ مندر 2020 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بنائے گئے ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ 22 جنوری 2024 میں اسکی پران پرتیشٹھا کی گئی تھی اور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ اس مندر کا دورہ کرتی ہے اور مندر کو عطیہ دیتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
-------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد