
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س)۔
ریلوے اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے وزیر مملکت روونیت سنگھ بٹو نے فلم ”ستلج“ کی مخالفت کو تیز کرتے ہوئے فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردی کے دور میں 25 ہزار افراد لاپتہ ہوئے تو تمام دستاویزی ثبوت اور سرکاری ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
بٹو نے واضح طور پر کہا کہ اگر فلمساز اپنے دعووں کو ثابت کرتے ہیں تو وہ عوامی طور پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر ایسے ثبوت پیش نہیں کیے گئے تو وہ اس معاملے میں مزید کارروائی کریں گے۔
پیر کو یہاں ریل بھون میں ایک پریس کانفرنس میں، روونیت سنگھ بٹو نے الزام لگایا کہ یہ فلم دہشت گردی کے دور میں پنجاب کی تاریخ کا یک طرفہ منظر پیش کرتی ہے۔ فلم صرف ایک پہلو کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ہزاروں معصوموں کے مصائب کو نظر انداز کرتی ہے۔ بٹو نے سوال کیا کہ اگر تاریخ کی تصویر کشی کی جا رہی ہے تو اس میں دہشت گردی کے دور میں جانیں گنوانے والے معصوم ہندوو¿ں، بس مسافروں، دکانداروں، سرکاری ملازمین، مزدوروں اور عام شہریوں کے قتل عام کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟ انہوں نے دلیل دی کہ کسی بھی تاریخی واقعہ کو پیش کرتے وقت تمام فریقین اور تمام متاثرین کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔ مرکزی وزیر نے فلم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے دادا پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بینت سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں ان کے کردار کی تصویر کشی اصل واقعات سے میل نہیں کھاتی۔ ان کے دادا بینت سنگھ کو انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی گرفتاری سے پہلے ہی شہید کر دیا گیا تھا، اس لیے وہ اس واقعے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ان کے خلاف بولنے کے لیے محض مسائل ڈھونڈتے ہیں، جو ان کے کاروبار کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بٹو کے مطابق کسی کو بھی اس فلم کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا لیکن اداکار دلجیت دوسانجھ کے نمایاں نام کی وجہ سے یہ فلم بڑے پیمانے پر شائقین کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ