
ممبئی ، 13 جولائی (ہ س) نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتر منتر پر جاری سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کو شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو 16 دن مکمل ہونے کے بعد ان کی صحت بگڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی پس منظر میں ادھو ٹھاکرے نے پیر کو ممبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی۔
ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ چند روز قبل انہوں نے سونم وانگچک سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور ان سے جان لیوا بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن وانگچک نے جواب دیا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے تو بھی کوئی پروا نہیں، ملک کا بھلا ہونا چاہیے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جو شخص میرا کچھ بھی ہونے دو، دیش کا بھلا ہونا چاہیے جیسی سوچ رکھتا ہو، اس سے مزید کیا کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت غیر حساس رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور سونم وانگچک کی تحریک اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ادھو ٹھاکرے نے اپیل کی کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اس احتجاج میں شامل ہو کر اپنی آواز بلند کریں۔
ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کا معاملہ گزشتہ ایک ماہ سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر ابھیجیت دیپکے نے اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے احتجاج شروع کیا، کیونکہ یہ صرف سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا سوال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرچہ لیک سے طلبہ بری طرح متاثر ہوئے، بعض نے انتہائی قدم بھی اٹھایا، لیکن حکومت نے اس معاملے کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی خدمات اور ذہانت کا احترام کیا جانا چاہیے، مگر افسوس کہ ایسے افراد کو بھی ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ 16 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے باوجود مرکزی حکومت کے پاس ان کی بات سننے کا وقت نہیں ہے۔
ادھو ٹھاکرے نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ 20 جولائی کے احتجاج سے قبل جنتر منتر پر غنڈوں کو بھیج کر تشدد کرایا جا سکتا ہے تاکہ تحریک کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ابھیجیت دیپکے ملک کے نوجوانوں کی آواز بلند کر رہے ہیں، اس لیے نوجوانوں اور والدین کو اب بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انا ہزارے کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت نے مذاکرات کی کوشش کی تھی۔ ادھو ٹھاکرے نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی وزیر اپنی ذمہ داری مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر رہا تو اسے تبدیل کرنے میں کیا حرج ہے۔ انہوں نے دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جگہ کسی اہل اور باصلاحیت شخص کو مقرر کیا جائے اور نیٹ امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کر کے طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے