
پیرس، 13 جولائی (ہ س)۔ فرانس کے دارالحکومت کے مضافاتی علاقے سرسیلیس میں ایک یہودی عبادت گاہ (سینیگاگ) کے قریب مشکوک گاڑی میں ملٹری گریڈ ہتھیار ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ احتیاط کے طور پر، پولیس نے علاقے سے تقریباً 300 لوگوں کومحفوظ مقامات پر پہنچایا اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
مشتبہ گاڑی ہفتے کی شام پیرس کے شمال میں واقع سرسیلیس علاقے میں ملی، جہاں فرانس کی سب سے بڑی یہودی برادریوں میں سے ایک رہتی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ایک سنیما، کئی ریستوراں اور آس پاس کی دیگر عمارتوں کو خالی کرا لیا۔
روسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے اور فرانسیسی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک فرانس 24 نے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے اس چوری شدہ گاڑی سے ایک اسالٹ رائفل اور ایک ہینڈ گن برآمد کی ہے۔ بم اسکواڈ نے گاڑی کا معائنہ کیا لیکن کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لارینٹ نونس نے برآمد ہونے والی اسالٹ رائفل کو”ملٹری گریڈ ہتھیار“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے پیچھےکی وجوہات واضح نہیں ہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔اس واقعے کے بعد، فرانس کے قومی انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک دہشت گرد مجرمانہ تنظیم سے مبینہ روابط اور پرتشدد حملے کی سازش کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے فرانس میں یہود مخالف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر داخلہ نونیز کے مطابق پولیس نے اس سال اب تک یہودی برادری کو نشانہ بنانے کی تین بڑی سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں گزشتہ سال یہود مخالف واقعات کے 1,320 واقعات درج ہوئے جو کہ تین سال پہلے کی تعداد سے تقریباً تین گنا زیادہ تھے۔ ملک کی آبادی میں یہودیوں کی حصہ داری ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود،مذہب کی بنیاد پر ہونے والے جرائم میں آدھے سے زیادہ معاملے اسی کمیونٹی کے خلاف درج کئے گئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد