
لندن، 13 جولائی (ہ س): امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچنے کے اثرات عالمی تیل بازار میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے درمیان پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
بازار میں یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شامل آبنائے ہرمز سے تیل کی رسد اور بحری تجارت متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق امریکہ نے کہا ہے کہ قبرص کے پرچم بردار ایک مال بردار بحری جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کے جواب میں اس نے ایک ہفتے کے اندر ایران کے خلاف چوتھی فوجی کارروائی کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے درجنوں ایسے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں تجارتی جہازوں کو دھمکانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کو ’’اگلے حکم تک‘‘ بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ میں معمول کے مطابق آمدورفت جاری ہے۔
ادھرپاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے پیر کی صبح دعویٰ کیا کہ اس نے کویت میں واقع دو فوجی اڈوں پر حملہ کر کے ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور ریڈار آلات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
اسی دوران جنوبی ایرانی بندرگاہی شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد ازاں ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے بندر عباس کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی مذاکرات کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کی خبروں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی تھی، لیکن تازہ پیش رفت نے عالمی توانائی کی رسد اور سمندری سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مزید مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوگا جب تک امریکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور ایرانی تیل کی برآمدات سے متعلق اپنے سابقہ وعدوں کو پورا نہیں کرتا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد