
امراوتی ، 13 جولائی (ہ س)۔ امراوتی ضلع کے دھامن گاؤں ریلوے، چاندور ریلوے، دیوگاؤں اور منگرول دستگیر علاقوں کے ‘سرپ متر (سانپ بچاؤ رضاکاروں) نے اپنی مختلف زیر التوا مطالبات کے حق میں سانپ پکڑنے کا کام بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بارش کے موسم میں انسانی آبادیوں میں داخل ہونے والے سانپوں کو محفوظ طریقے سے پکڑنے کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، جس پر مقامی شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔دھامن گاؤں ریلوے کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں سرپ متروں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پر مثبت فیصلہ نہیں کیا جاتا، وہ سانپ پکڑنے کی خدمات انجام نہیں دیں گے۔ سرپ متر اپنی جان خطرے میں ڈال کر گھروں اور آبادیوں میں داخل ہونے والے سانپوں کو محفوظ طریقے سے پکڑ کر انہیں کسی نقصان کے بغیر جنگل یا ان کے قدرتی مسکن میں چھوڑتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مناسب سرکاری تحفظ اور سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔سرپ متروں کا کہنا ہے کہ سانپ پکڑنے کے دوران انہیں سانپ کے ڈسنے، حادثات اور دیگر جان لیوا خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ایسے مواقع پر محکمہ جنگلات کی جانب سے نہ تو مؤثر مدد فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ریاست بھر کے تمام سرپ متروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔سرپ متروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انہیں سرکاری سطح پر فرنٹ لائن ورکر کا درجہ دے، سانپ کے ڈسنے کی صورت میں علاج کا مکمل خرچ حکومت برداشت کرے اور انہیں حادثاتی بیمہ کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات کئی بار متعلقہ حکام کے سامنے رکھے جا چکے ہیں، لیکن اب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ بارش کا موسم شروع ہونے کے بعد علاقوں میں سانپ نکلنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے وقت میں سرپ متروں کی کام بند تحریک کے باعث یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ اگر کسی رہائشی علاقے میں سانپ داخل ہو جائے تو اسے محفوظ طریقے سے کون پکڑے گا۔دھامن گاؤں ریلوے کے سرپ متر اشفاق شاہ نے کہا کہ وہ نہ صرف سانپوں کی جان بچاتے ہیں بلکہ عوام میں سانپوں کے بارے میں بیداری بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرپ متر اپنی جان خطرے میں ڈال کر شہریوں کی مدد کرتے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ انہیں فرنٹ لائن ورکر کا درجہ، علاج کی مکمل سہولت اور حادثاتی بیمہ فراہم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے