ڈاکٹر احمد مسعود خان نے ہندوستانی وائلڈ لائف ایکولوجی کانفرنس میں سمپوزیم کی صدارت کی
علی گڑھ، 13 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے ڈاکٹر احمد مسعود خان نے 10 تا 12 جولائی اشوکا یونیورسٹی، سونی پت، ہریانہ میں ہندوستانی وائلڈ لائف ایکولوجی کانفرنس کے دوران ایک سمپوزیم بعنوان ‘‘خلل، جنگلاتی حیات کی ماحو
احمد مسعود


علی گڑھ، 13 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے ڈاکٹر احمد مسعود خان نے 10 تا 12 جولائی اشوکا یونیورسٹی، سونی پت، ہریانہ میں ہندوستانی وائلڈ لائف ایکولوجی کانفرنس کے دوران ایک سمپوزیم بعنوان ‘‘خلل، جنگلاتی حیات کی ماحولیات کو کیسے متاثر کرتی ہے’’ کی صدارت کی، جس میں وائلڈ لائف کے رویّوں، ماحولیات اور تحفظ پر انسانی سرگرمیوں سے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

کانفرنس میں وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، سالم علی سنٹر فار اورنیتھولوجی اینڈنیچرل ہسٹری، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، اشوکا یونیورسٹی، ایمیٹی یونیورسٹی، ڈیکن یونیورسٹی، کارنیل یونیورسٹی اور بھارتی ودیا پیٹھ انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سمیت مختلف اداروں کے محققین نے چھوٹے گوشت خور جانوروں کی ماحولیات، ایشیائی ہاتھیوں میں طرز عمل کی مطابقت، رینگنے والے جانوروں پر مصنوعی روشنی کے اثرات، مردار خور جانوروں کی ماحولیات اور انسانی سرگرمیوں پر وائلڈ لائف کا ردّعمل جیسے موضوعات پر اپنی تحقیق پیش کی۔

ڈاکٹر احمد مسعود خان نے ہر مقالے کے بعد ہونے والی گفتگو کی نظامت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگلاتی حیات پر بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا، مؤثر تحفظاتی و انتظامی حکمت عملیوں کی تیاری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے انسان اور وائلڈ

لائف کے درمیان بہتر بقائے باہمی کو فروغ دینے اور تیزی سے بدلتے ہوئے قدرتی ماحول میں شواہد پر مبنی تحفظاتی منصوبہ بندی کے لیے بین شعبہ جاتی تحقیق کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande