
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س): کانگریس کے ریاستی انچارج راجندر پال گوتم کی قیادت میں ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی اور عہدیداران پر مشتمل ایک وفد پیر کے روز میرٹھ میں للتا گوتم قتل معاملے میں ان کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا، لیکن پولیس اور انتظامیہ نے اس قافلے کو کاشی ٹول پلازہ پر ہی روک دیا۔ اس دوران کافی دیر تک ہنگامہ آرائی اور افسران کے ساتھ نوک جھونک ہوتی رہی۔ آخرکار وفد کو واپس دہلی لوٹنا پڑا۔
راجندر پال گوتم نے اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور صرف اپنے حامی تنظیموں کو ہی متاثرہ خاندان سے ملنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس انتظامیہ کا رویہ جانبدارانہ ہے اور کانگریس سے خوفزدہ ہو کر اسے روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں دلتوں پر مظالم بڑھ رہے ہیں اور پولیس غنڈوں جیسا رویہ اختیار کر رہی ہے۔
ریاستی انچارج نے مطالبہ کیا کہ میرٹھ کے ایس ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کر کے آئین کے مطابق کارروائی کی جائے، کیونکہ حراست میں لیے گئے ایک وکیل کے ساتھ مارپیٹ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گی اور 27 جولائی کو جنتر منتر پر دھرنا دے گی۔
گوتم نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کو متاثرہ خاندانوں سے ملنے نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضہ، اہل خانہ کو سرکاری ملازمت اور مقدمے کی فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت کا مطالبہ کیا۔
وفد میں رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود، تنوج پونیا، کے ایل شرما، راجیہ سبھا کے رکن کرم ویر بودھ، رکنِ اسمبلی وریندر چودھری، دہلی پردیش ایس سی محکمہ کے صدر سنجے نیرج سمیت دیگر عہدیداران شامل تھے۔ پولیس حکام نے انہیں یہ کہتے ہوئے آگے جانے سے روک دیا کہ خاندان کا کوئی فرد گاؤں میں موجود نہیں ہے اور ان کے جانے سے امن و قانون کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد