مرکزی حکومت ملک میں 10 سے 19 ستمبر تک’سوچھ ساگر،سرکشت ساگر‘مہم چلائے گی
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے قومی سائنسی اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے کے لیے سائنس کی وزارتوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کینئی دہلی،12جولائی(ہ س)۔مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم نیز وزیر مملکت برائے وزیر اع
مرکزی حکومت ملک میں 10 سے 19 ستمبر تک’سوچھ ساگر،سرکشت ساگر‘مہم چلائے گی


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے قومی سائنسی اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے کے لیے سائنس کی وزارتوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کینئی دہلی،12جولائی(ہ س)۔مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج حکومتِ ہند کی سائنسی وزارتوں اور محکموں کے سکریٹریوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور قومی ترجیحات پر تیزی سے عمل درآمد کے لیے سائنسی اداروں کے درمیان بلا رکاوٹ تال میل پر زور دیا۔ 10 سے 19 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والی آئندہ ملک گیر ساحلی صفائی مہم ’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘ کی تیاریاں جاری ہیں۔ وزیر موصوف نے زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ قومی اثرات مرتب کرنے کے لیے سائنسی اداروں کو تکنیکی اختراع، عوامی شرکت اور بین محکمہ جاتی تعاون کو یکجا کرتے ہوئے قریبی شراکت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

نئی دہلی کے سی ایس آئی آر سائنس سینٹر میں منعقدہ اس اجلاس میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے، محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے؛ محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر) اور وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کی سکریٹری ڈاکٹر این کلائی سیلوی؛ نیز متعلقہ سائنسی محکموں اور تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔

گزشتہ رابطہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ سائنسی محکموں کو الگ تھلگ اداروں کے بجائے ایک مربوط نظام کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے درمیان باقاعدہ رابطہ، معلومات و علم کا تبادلہ، مشترکہ اقدامات اور مربوط عمل درآمد سے اختراع کی رفتار تیز کرنے، نظم و نسق کو بہتر بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ سائنسی کامیابیوں کا براہِ راست فائدہ شہریوں تک پہنچے۔

اجلاس میں خاص طور پر آئندہ ’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘ مہم پر توجہ مرکوز کی گئی، جو 10 سے 19 ستمبر 2026 تک ملک کے ساحلی علاقوں میں منعقد کی جائے گی۔ وزیر موصوف نے اس ملک گیر اقدام کے لیے عوامی رسائی کی حکمتِ عملی اور تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس مہم کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو عوامی بیداری اور برادری کی شرکت کے ساتھ جوڑنا ہے۔ توقع ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ساحلی صفائی مہمات میں سے ایک اس مہم میں سائنسی ادارے، سرکاری محکمے، رضاکار، تعلیمی ادارے اور مقامی برادریاں یکجا ہوں گی۔

اجلاس میں مختلف سائنسی وزارتوں کی ابلاغی حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ گزشتہ بارہ برسوں، بالخصوص موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برسوں کی کامیابیوں کو زیادہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچایا جا سکے۔ محکموں نے بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ویڈیوز، دستاویزی فلموں، موضوعاتی مہمات، معلوماتی خاکوں، کامیابی کی داستانوں اور عوامی شمولیت کے اقدامات کے ذریعے رقمی ذرائع سے عوامی رسائی کو مضبوط بنانے کے اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کا سائنسی نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں تحقیقی برتری، تکنیکی اختراع، ادارہ جاتی تال میل اور عوامی شمولیت کو ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی محکموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون، سائنس کو زیادہ قابلِ رسائی، زیادہ م¶ثر اور ملک کی ترقیاتی ترجیحات سے زیادہ قریب سے ہم آہنگ بنانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وزیر موصوف نے انتظامی کارکردگی، ادارہ جاتی تال میل اور سائنسی منتظمین کی استعداد سازی سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے محکموں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بہترین طریقہ کار کا باہمی تبادلہ جاری رکھیں اور پورے سائنسی نظام میں اشتراکی نظم و نسق کو مزید مضبوط بنائیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande