پی ایل ایف آئی کو دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش میں مصروف مطلوب عسکریت پسند راجندر ساہو گرفتار
کھونٹی، 12 جولائی (ہ س)۔ کھونٹی پولیس نے ممنوعہ نکسلی تنظیم پیپلز لبریشن فرنٹ آف انڈیا (پی ایل ایف آئی) کو دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش کرنے والے مطلوب عسکریت پسند راجندر ساہو عرف راجندر ساو عرف ماسٹر کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اس کے قبضے سے ایک دیسی
پی ایل ایف آئی کو دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش میں مصروف مطلوب عسکریت پسند راجندر ساہو گرفتار


کھونٹی، 12 جولائی (ہ س)۔ کھونٹی پولیس نے ممنوعہ نکسلی تنظیم پیپلز لبریشن فرنٹ آف انڈیا (پی ایل ایف آئی) کو دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش کرنے والے مطلوب عسکریت پسند راجندر ساہو عرف راجندر ساو عرف ماسٹر کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اس کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ پستول اور چھ زندہ کارتوس بھی برآمد کئے۔ گرفتارشدت پسند مرہو تھانہ علاقہ کے گامہریا گاوں کا رہنے والا ہے اور کافی عرصے سے پولیس کی حراست سے مفرور تھا۔

اتوار کو پولیس آفس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں پولیس سپرنٹنڈنٹ رشبھ گرگ نے کہا کہ راجندر ساہو پرانے پی ایل ایف آئی نیٹ ورک کو دوبارہ فعال اور مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ ساہو اپنے آبائی گاوں گمہریا پہنچاہوا ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد، تورپا کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) وجے کمار سنگھ کی قیادت میں ایک خصوصی چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی گئی۔

چھاپہ مار ٹیم میں تورپا پولیس اسٹیشن کے انچارج منیش کمار، کررا تھانہ انچارج راجو کمار، سب انسپکٹر منیش کمار اور مسلح پولیس فورس کے اہلکار شامل تھے۔ ٹیم نے تیزی سے کام کرتے ہوئے گمہریا گا¶ں میں چھاپہ مارا اور راجندر ساہو کو گرفتار کر لیا۔ تلاشی کے دوران اس کے پاس سے ایک دیسی ساختہ پستول اور چھ زندہ کارتوس برآمد ہوئے جنہیں پولیس نے ضبط کر لیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ رشبھ گرگ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ راجندر ساہو ضلع میں حالیہ کئی مجرمانہ اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کررا ریلوے سائٹ اور تورپا گیس ڈپو پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث تھا۔ پولیس ان معاملات میں تفصیلی پوچھ گچھ کر رہی ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق، راجندر ساہو کے خلاف ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں سات مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ ان میں تورپا، مرہو، اور کررا تھانوں میں دو دو، اور کھونٹی میں ایک کیس شامل ہے۔ تمام مقدمات انتہا پسندانہ سرگرمیوں، بھتہ خوری، ہتھیاروں کے استعمال اور دیگر سنگین جرائم سے متعلق ہیں۔ پولیس کافی عرصے سے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔گرفتاری کے بعد ملزم کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ ضروری قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande