صدرجمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا معروف گلوکارہ ایس جانکی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار
نئی دہلی، 12 جولائی (ہ س)۔ صدرجمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے معروف گلوکارہ ایس جانکی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک ایسی مایہ ناز شخصیت سے محروم ہو گئی ہے جس ک
غم


نئی دہلی، 12 جولائی (ہ س)۔ صدرجمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے معروف گلوکارہ ایس جانکی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک ایسی مایہ ناز شخصیت سے محروم ہو گئی ہے جس کی غیر معمولی گلوکاری نے نسلوں کو مسحور کیا تھا۔

'نائٹنگل آف ساوتھ انڈیا' کے نام سے مشہور ایس جانکی کا ہفتہ کو میسور میں 88 سال کی عمر میںطویل عمر اور بیماری کے باعث انتقال ہو گیا۔ ان کا کیریئر چھ دہائیوں پر محیط تھا، اس دوران انہوں نے 20 سے زائد زبانوں میں 48,000 سے زیادہ گانے گائے۔ ایس جانکی نے ہندوستانی سنیما میں بے شمار سدا بہار گانے گائے۔ ان کے مقبول گانوں میں یار بنا چین کہاں رے (بپی لاہری کے ساتھ)، گوری کا ساجن، ساجن کی گوری، سن روبیہ، اور گھائل گھائل تونے مجھے کر دیا شامل ہیں۔ نینو میں نندیا ہے اور حسینوں کا دستور بھی ان کے قابل ذکر ہندی گانوں میں سے ہیں۔

اپنے تعزیتی پیغام میں صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ جانکی کی مقبول موسیقی ناقابل فراموش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انتقال کے ساتھ ہی ہندوستان ایک ایسے موسیقی کے لیجنڈ سے محروم ہو گیا ہے جن کی غیر معمولی گلوکاری نے نسلوں کو مسحور کیاہے۔ ان کا شاندار کیریئر چھ دہائیوں پر محیط تھا، جس کے دوران انہوں نے ہندی، اوڑیا، تولو، اردو، پنجابی اور بنگالی سمیت تقریباً 20 ہندوستانی زبانوں میں ہزاروں گانے ریکارڈ کیے۔

ایس جانکی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ان کی غیر معمولی آواز نے ہندوستانی موسیقی کو تقویت بخشی اور کئی نسلوں کے دلوں کو چھو لیا۔ ان کے گانوں نے لسانی اور علاقائی حدود کو عبور کرتے ہوئے موسیقی کی آفاقی زبان کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو متحد کیا۔ ایس جانکی کا انتقال موسیقی کی دنیا اور ملک کے فنی ورثے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہاکہ انہوں نے کلاسیکی،بھکتی اور لوک موسیقی کے کمپوزیشن پر یکساں مہارت کا مظاہرہ کیا، جس سے ہر صنف پر انمٹ نقوش چھوڑے ۔ ہندوستانی موسیقی میں اپنی بے پناہ شراکت کے ذریعے، اس نے ایک ایسی میراث چھوڑی ہے جو فنکاروں اور موسیقی سے محبت کرنے والوں کو یکساں طور پر متاثر کرتی رہے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایس جانکی کے انتقال کو موسیقی اور ثقافت کی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زبانوں میں ان کے گانے نسلوں تک مقبول رہے۔ انہوںنے ہر جذبات کو منفرد دھن اور استعداد کے ساتھ آواز دی۔ ان کی مدھر دھنیں آنے والے برسوں تک سامعین کو مسحور کرتی رہیں گی۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جانکی جی نے اپنی غیر معمولی آواز سے ایسے گانوں میں جان ڈالی جو مختلف زبانوں میں لازوال کلاسیکی بن گئے۔ ملک کی سب سے معزز ثقافتی شخصیات میں سے ایک کے طور پر، انہوں نے موسیقی کی دنیا میں ایک ایسا خلا چھوڑا ہے جسے کبھی پر نہیں کیا جا سکے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande