
چنڈی گڑھ، 11 جولائی (ہ س)۔
پنجاب کانگریس میں جاری اندرونی اختلافات ہفتہ کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پارٹی کے پنجاب انچارج بھوپیش بگھیل نے دہلی واپس آنے سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کی حمایت کرنے والے رہنماوں کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ ریاستی کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ واڈنگ میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔ چنڈی گڑھ میں پارٹی ممبراسمبلی رانا گرجیت کے گھر قریب2گھنٹے تک چلی میٹنگ میں چنی گروپ کے سبھی لیڈروں نے اپنی بات رکھی۔ ہائی کمان نے چنی کو آج کے اجلاس کے حوالے سے دو سے تین رہنماوں سے ملاقات کرنے کیلئے کہا تھا تاہم چنی گروپ کے 80 ارکان بگھیل سے ملنے پہنچ گئے۔میٹنگ سے پہلے باغی گروپ نے سابق وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کو 2027 کے الیکشن کے لئے وزیراعلیٰ کا چہرہ بنانے کا مطالبہ کیا۔چنی دھڑے کا کہنا ہے کہ اگر وہ انہیں صدر نہیں بناتے ہیں تو پھر انہیں اپنا وزیراعلیٰ چہرہ قرار دیں تاکہ ان کے نام پرپنجاب میں ووٹ مانگ سکیں۔ ہائی کمان پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ امریندر راجہ واڈینگ کو صدر کے عہدے سے نہیں ہٹائے گی۔ چنی دھڑے کی شرط کے مطابق چیف راجہ واڈئنگ کو اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔میٹنگ کے بعد بھوپیش بگھیل نے دعویٰ کیا کہ وہ ہائی کمان کو رپورٹ پیش کریں گے، جس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔بگھیل نے کہا کہ وہ کل سے چنڈی گڑھ میں ہیں۔ میں نے تمام لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔ رانا گرجیت نے آج مجھے دعوت دی۔ میں نے اپنے تمام ساتھیوں سے بات کی۔ میں ان سے ملا۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پارٹی ہائی کمان کے فیصلے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ جو بھی جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے ٹکٹ ضرور ملے گا۔ کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کسی کے سہارے کے بغیر ہیں۔بھوپیش بگھیل نے چنی دھڑے کو واضح پیغام دیا کہ اگر انہوں نے لائن کراس کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ دریں اثنا، کانگریس صدر امریندر سنگھ راجہ واڈئنگ نے کہا کہ جنرل سکریٹری انچارج ہیں اور ثالثی کرتے ہیں۔ صدر کا ہر جگہ جانا ضروری نہیں ہے۔ ان کے پاس بھی بات کرنے کے لیے کچھ مسائل ہیں۔ کانگریس پارٹی میں اتحاد ہے، اسی لیے یہ میٹنگ ہو رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan