
پالگھر میں سیلاب کے دوران ایک خاندان نے میت کے ساتھ چار گھنٹے گھر کی چھت پر گزارےپالگھر، 11 جولائی (ہ س)۔ پالگھر ضلع میں حالیہ موسلادھار بارش کے باعث کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اسی دوران کیلوے روڈ کے دیوی پاڑہ علاقے سے ایک نہایت دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں سیلابی پانی سے گھر چاروں طرف سے گھِر جانے کے بعد ایک خاندان کو اپنے مرحوم عزیز کی میت کے ساتھ تقریباً چار گھنٹے تک گھر کی چھت پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پورے علاقے میں افسوس اور رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔دیوی پاڑہ کی رہائشی 55 سالہ انوسیا منوہر للکا کا دھندلواڑی کے ایک اسپتال میں علاج جاری تھا، تاہم اتوار کی رات دورانِ علاج ان کا انتقال ہوگیا۔ پیر کی صبح ان کی میت ایمبولینس کے ذریعے کیلوے روڈ لائی گئی، لیکن علاقے کے ریلوے انڈر پاس میں بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث ایمبولینس آگے نہ جا سکی۔ اس کے بعد اہل خانہ کو شدید دشواریوں کا سامنا کرتے ہوئے میت کو کندھوں پر اٹھا کر گھر تک پہنچانا پڑا۔اس دوران صبح کے وقت بارش مزید تیز ہوگئی اور علاقے میں سیلابی پانی تیزی سے بڑھنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں پانی گھر کے اندر داخل ہوگیا۔ پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث اہل خانہ کو خدشہ لاحق ہوگیا کہ گھر کے سامان کے ساتھ میت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس نازک صورتحال میں خاندان کے افراد نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے باورچی خانے کی چھت کی دو سیمنٹ کی چادریں توڑ دیں اور میت کو اوپر چھت پر منتقل کر دیا۔ بعد ازاں میت کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر پلاسٹک کی چادر ڈال دی گئی۔گھر میں موجود چھوٹے بچے، خواتین اور دیگر افراد کو جان ہتھیلی پر رکھ کر تقریباً چار گھنٹے تک چھت پر بیٹھے رہنا پڑا۔ ایک طرف خاندان کے بزرگ فرد کے انتقال کا غم تھا اور دوسری طرف مسلسل بڑھتے ہوئے سیلابی پانی کا خوف۔ اس دوہرے صدمے نے للکا خاندان کو ذہنی اور جذباتی طور پر بری طرح متاثر کر دیا۔ چند گھنٹوں بعد جب بارش کی شدت کم ہوئی اور سیلابی پانی آہستہ آہستہ اترنے لگا تو میت کو دوبارہ نیچے لایا گیا۔ اس کے بعد مقامی دیہاتیوں نے آگے بڑھ کر آخری رسومات کے لیے ضروری انتظامات کیے اور دیوی پاڑہ کے شمشان گھاٹ میں انوسیا للکا کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی کہ قدرتی آفات کے دوران عام شہریوں کو کس قدر سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیلاب کی اس صورتحال میں ایک خاندان کو اپنے عزیز کو آخری وداع دینے کے لیے بھی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا، جس سے پورا دیوی پاڑہ علاقہ سوگ اور غم کی کیفیت میں ڈوب گیا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے