نیتی آیوگ نے شانتی ایکٹ 2025 کے نفاذ پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی میٹنگ کی
نئی دہلی،11جولائی(ہ س)۔نیتی آیوگ نے 10 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر کے سمرستا آڈیٹوریم میں شانتی ایکٹ 2025 کے نفاذ کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اس اجلاس میں حکومت، تحقیقی اداروں اور صنعت س
نیتی آیوگ نے شانتی ایکٹ 2025 کے نفاذ پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی میٹنگ کی


نئی دہلی،11جولائی(ہ س)۔نیتی آیوگ نے 10 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر کے سمرستا آڈیٹوریم میں شانتی ایکٹ 2025 کے نفاذ کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اس اجلاس میں حکومت، تحقیقی اداروں اور صنعت سے وابستہ اہم رہنماوں، پالیسی سازوں اور ماہرین نے شرکت کی اور اس تاریخی قانون کے موثر نفاذ کے لیے عملی اور انتظامی ڈھانچے پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس کی صدارت نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر ابھے کرندیکر نے کی۔ دیگر ممتاز شخصیات میں وزارتِ توانائی کے سکریٹری جناب پنکج اگروال، مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) کے چیئرمین جناب گھن شیام پرساد، این ٹی پی سی لمیٹڈ کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر جناب گردیپ سنگھ، نیتی آیوگ کی پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر انشو بھاردواج، نیتی آیوگ کے مشیرجناب راج ناتھ رام، محکمہ? ایٹمی توانائی کے اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ سسٹمز ڈویلپمنٹ ڈویژن (ایس ایس ایس ڈی) کی سربراہ محترمہ ڈاکٹر گریما شرما اور اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کے ممتاز سائنس دان اور ڈائریکٹر جناب ہری کمار شامل تھے۔

قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک: اس نشست میں شانتی ایکٹ کے تحت تیار کیے گئے مجوزہ قواعد و ضوابط اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی ڈی) سے متعلق پالیسی دفعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ابتدائی تکنیکی اجلاس میں شانتی ایکٹ 2025 کے تحت قانونی تقاضوں اور تعمیل کے نظام کی وضاحت کی گئی، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو کس طرح موثر انداز میں راغب کیا جا سکتا ہے۔

مالیات، انشورنس اور عوامی اعتماد: شرکائ نے قانون کے موثر نفاذ کے لیے درکار مالیاتی نظام اور خطرات کے تدارک کے طریقہ¿ کار پر غور کیا۔ طویل المدتی منصوبوں کے لیے موزوں انشورنس انتظامات، عوامی آگاہی میں اضافہ، مقامی برادریوں کا اعتماد حاصل کرنے اور جوہری توانائی کے منصوبوں کے بارے میں وسیع تر عوامی قبولیت پیدا کرنے کی حکمتِ عملیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔مینوفیکچرنگ، آپریشنز اور استعداد سازی: اس مرحلے میں قانون کے عملی نفاذ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکائ نے ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، آپریشنل تیاری کو یقینی بنانے اور ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس شعبے کا پائیدار ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے، صنعت کی توسیع کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام ترتیب دینے اور اعلیٰ صلاحیت کی حامل افرادی قوت کی تیاری کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں شریک مختلف اسٹیک ہولڈرز نے ان تینوں اہم شعبوں سے متعلق اپنے قیمتی خیالات اور تجاویز پیش کیں، جو شانتی ایکٹ 2025 کے نفاذ کے فریم ورک کو مزید موثر اور مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande