ایم پی کے دتیا ضمنی انتخاب میں نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے کے بعد حامیوں کا پرتشدد احتجاج، دفعہ 163 نافذ
بھوپال، 11 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے قدآور رہنما ڈاکٹر نروتم مشرا کا ٹکٹ کاٹ کر آشوتوش تیواری کو امیدوار بنائے جانے کے بعد علاقے میں زبردست ہنگامہ ہو رہا ہے۔ ان کے حامی پرتشدد احتجاج کر رہے ہیں۔ اس
نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے کے بعد حامیوں نے گوالیار-جھانسی ہائی وے جام کیا، فائل فوٹو


بھوپال، 11 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے قدآور رہنما ڈاکٹر نروتم مشرا کا ٹکٹ کاٹ کر آشوتوش تیواری کو امیدوار بنائے جانے کے بعد علاقے میں زبردست ہنگامہ ہو رہا ہے۔ ان کے حامی پرتشدد احتجاج کر رہے ہیں۔ اس بھاری ہنگامے کے درمیان ڈاکٹر نروتم مشرا کا پہلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔

انہوں نے میڈیا کے ذریعے اپنے حامیوں اور کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امیدوار کا انتخاب پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا فیصلہ ہے، اس لیے تمام کارکنان صبر و تحمل سے کام لیں۔ کسی بھی طرح کا پرتشدد احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ویڈیو فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے نام پر مٹی کا تیل یا پٹرول ڈالنے جیسی حرکتیں کرنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی صورت میں راستہ بند نہ کریں، کیونکہ پارٹی فورم پر اپنی بات رکھنے کا ایک طے شدہ طریقہ ہوتا ہے اور اس طرح کا پرتشدد احتجاج قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔

دراصل، دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی امیدوار کے اعلان کے بعد جمعہ کی شام تقریباً 5.30 بجے سے حامیوں نے پرتشدد احتجاج شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں پتھراو، چکہ جام اور پولیس کے ساتھ جھڑپ شروع ہو گئی۔ مظاہرین نے گوالیار-جھانسی ہائی وے پر تقریباً 20-15 کلومیٹر طویل چکہ جام کر دیا جس میں سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔

ہفتہ کی صبح احتجاج کے دوران بپھری ہوئی بھیڑ نے پولیس پر پتھراو کیا، جس میں کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور ایک گاڑی کو پلٹ دیا گیا۔ حالات کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس پتھراو میں دتیا کے ایس پی اور ایس ڈی او پی سمیت آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حالات بگڑنے پر پولیس نے اضافی فورس تعینات کر دی۔ بتایا گیا کہ کچھ حامیوں نے بی جے پی دفتر میں خود کو بند کر لیا تھا، جنہیں بعد میں انتظامیہ کی فہمائش کے بعد باہر نکالا گیا۔

اس شدید ہنگامے اور بگڑتی ہوئی امن و قانون کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے دتیا کے کلکٹر نے فوری ایکشن لیا ہے۔ ہفتہ کی صبح انتظامیہ نے پورے ضلع میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ کر دی۔ اس کے تحت بغیر اجازت کسی بھی میٹنگ، جلوس، دھرنا مظاہرے اور عوامی پروگرام پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی پانچ یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔

ضلع کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منجیت سنگھ چاولہ نے کہا کہ ضلع میں کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ تین ہزار سے زیادہ مظاہرین نے تقریباً 12 گھنٹے تک این ایچ-44 کو جام رکھا، جس میں دتیا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور کئی دیگر پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ بعد میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو ہٹایا اور ان میں سے کچھ کو حراست میں لے لیا۔

دتیا ضمنی انتخاب میں ٹکٹ کو لے کر برپا ہنگامے پر ریاستی حکومت کے سینئر وزیر کیلاش وجے ورگیہ کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی ایک جمہوری پارٹی ہے۔ کارکنوں کو اپنی بات رکھنے کا پورا حق ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنظیم تمام کارکنوں سے بات چیت کر کے اختلافات کو دور کر لے گی۔ بی جے پی امیدوار آشوتوش تیواری بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نروتم مشرا پارٹی کے سینئر اور مخلص رہنما ہیں۔ وہ تنظیم کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی میں ٹکٹ کے اعلان کے بعد اسے بدلنے کی روایت نہیں ہے۔ دتیا میں بھی امیدوار بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

بی جے پی تنظیم نے دتیا میں ٹکٹ کے بعد پیدا ہونے والی ناراضگی اور احتجاج کو روکنے کی ذمہ داری نائب وزی راعلیٰ جگدیش دیوڑا کو دی ہے۔ اس کے لیے وہ دتیا کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ دتیا روانہ ہونے سے پہلے ڈپٹی چیف منسٹر دیوڑا نے کہا کہ دتیا اسمبلی انتخاب کے سلسلے میں جو فیصلہ ہوا ہے، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا فیصلہ ہے۔ ہم سب اس فیصلے کو تہہ دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ تنظیم ہمارے لیے سب سے اوپر ہے اور تمام کارکنان تنظیم کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ اگر کسی بھی طرح کا کوئی معاملہ ہے تو اس کا حل پارٹی کی سطح پر بیٹھ کر نکالا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande