
نئی دہلی، 11 جولائی (ہ س)۔ ہندوستانی بحریہ کے سمندری بیڑے میں ایک اور جدید اسٹیلتھ فریگیٹ مہندرگیری کو آج شامل کیا گیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وشاکھاپٹنم میں مہندرگیری کو ایک ایسے وقت میں بحریہ میں شامل کیا جب ہندوستان کے مشرقی سمندری علاقے کی اسٹریٹجک اور سمندری اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ مہندرگیری کی بحریہ میںشمولیت سے بحر ہند کے علاقے میں ہندوستان کی نگرانی کی صلاحیتوں اور آپریشنل رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اس فریگیٹ کو بحریہ کے مشرقی بیڑے میں تعینات کیا جائے گا۔
پروجیکٹ 17اے کلاس کا چھٹا اسٹیلتھ فریگیٹ ”مہیندرگیری“ صرف ایک جہاز نہیں ہے بلکہ یہ ” میک ان انڈیا“کے جذبے اور ہمارے گھریلو سطح پر دفاعی ساز وسامان تیار کرنے کی ہمارے شپ یارڈز کی انجینئرنگ صلاحیتوں کا 6,670 ٹن وزنی اوتار ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز ڈیزائن بیورو میں ان -ہاوس ڈیزائن اور ممبئی کے مجھگاوںڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ میں تیار کردہ یہ فریگیٹ پہلے کے ڈیزائنوں کے مقابلے ایک نسل کی چھلانگ کی نمائندگی کرتا ہے۔ 75 فیصد سے زیادہ دیسی ساختہ مواد کے ساتھ یہ جہاز گھریلو صنعتی ماحولیاتی نظام کی پختگی کو نمایاں کرتا ہے، جو اب 200 سے زیادہ بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔ مشترکہ ڈیزل یا گیس پروپلشن سسٹم کے ذریعے تقویت یافتہ مہندرگیری کو کثیر جہتی میری ٹائم آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جہاز کا ہتھیاروں کا سوٹ عالمی معیار کا ہے، جس میں سطح سے سطح پر مار کرنے والے سپرسونک میزائل، درمیانے فاصلے تک زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور ایک خصوصی اینٹی سب میرین وارفیئر سوٹ شامل ہے۔ یہ نظام بغیر کسی رکاوٹ کے ایک جدید ترین جنگی انتظامی نظام کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے، جس سے عملہ خطرات کا درستگی کے ساتھ جواب دے سکتا ہے۔ اسٹیلتھ فریگیٹ کا مستحکم مشن پروفائل اسے اعلیٰ شدت کی لڑائی سے لے کر انسانی امداد اور آفات سے نجات تک کی کارروائیوںکے لیے مثالی بناتا ہے۔ ہندوستانی بحریہ جنگی طور پر تیار، مربوط اور قابل اعتماد خود انحصاری فورس کے طور پر ترقی کر رہی ہے۔ مہندرگیری ایک ابھرتی ہوئی سمندری طاقت اور ملک کی نیلی سرحدوں کے مضبوط محافظ کے طور پر ایک روشن مستقبل کے لیے تیار ہے۔
بحریہ کے کیپٹن وویک مدھوال نے کہا کہہماری بحریہ خواہ خلیج فارس ہو یا آبنائے ملاکا، بحر ہند میں مستقل موجودگی برقرار رکھتی ہے۔ جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ انخلا کی کارروائی ہو یا انسانی امداد فراہم کرنا، ہماری بحریہ ہمیشہ سب سے آگے ہوتی ہے۔ ہماری بحریہ ہندوستان کے اقدار اور عزم کی علامت ہے۔ آئی این ایس مہندرگیری کی بحریہ کے بیڑے میں شمولیت سے ہماری بحریہ کی طاقت، اقدار اور عزم کو مزید تقویت ملے گی۔ ہمیں محض اپنے ساحلوں تک محفوظ نہیں رہنا چاہیے ، بلکہ ضروری سمندری راستوں، چوک پوائنٹس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔
ہندوستانی بحریہ نے گزشتہ سال سے اب تک 12 بحری جہاز، ایک آبدوز اور ایک ایئر کرافٹ اسکواڈرن کواپنے بیڑے میں شامل کیا ہے۔ اپنی مضبوط جنگی صلاحیتوں کے ساتھ، 'مہندرگیری' ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خود انحصاری کی علامت ہے۔ جہاز میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی ساختہ مواد شامل ہے۔ اس پلیٹ فارم کی تعمیر کا کام اپنی نوعیت کے دیگر جہازوں کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم وقت میں مکمل ہوا ہے ۔ مشرقی گھاٹوں میں راجسی مہندرگیری پہاڑی سلسلے کے نام پر ہندوستانی بحریہ کا جنگی جہاز، مہندرگیری واقعی منفرد ہے۔ اب، یہ ایک مخصوص میراث بنانے اور ہندوستان کی سمندری تاریخ میں ایک اور شاندار باب کا اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد