
برکس ممالک کے درمیان پائیدار اور جدید نقل و حمل کے نظام کے لیے تعاون ناگزیر: نتن گڈکریناگپور، 11 جولائی (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہ نتن گڈکری نے برکس ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پائیدار، محفوظ، جامع اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ نقل و حمل کے نظام کی تشکیل کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کی اجتماعی صلاحیت اختراع، شراکت داری اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے عالمی نقل و حمل کے مستقبل کو نئی سمت دے سکتی ہے۔بھارت کی برکس صدارت کے تحت ناگپور میں منعقدہ برکس ممالک کے وزرائے ٹرانسپورٹ کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نتن گڈکری نے رکن ممالک کے وزراء، وفود کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس اجلاس کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان ٹرانسپورٹ تعاون کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ گڈکری نے کہا کہ بھارت کی برکس صدارت کا مرکزی موضوع لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر ہے، جو وسودھیو کٹمبکم کے فلسفے اور انسان دوست ترقی کے نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نقل و حمل کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور بھارت سڑک، ریلوے، بحری اور ہوائی نقل و حمل کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سڑکوں کا جال قائم کیا ہے اور ایکسپریس ویز کے ساتھ ساتھ کثیر جہتی رابطہ منصوبوں میں بھی تیزی سے توسیع کی جا رہی ہے۔ نتن گڈکری نے دہلی۔دہرادون اکنامک کوریڈور، سون مرگ سرنگ اور دس ہزار کلومیٹر سے زیادہ گرین فیلڈ ایکسپریس ویز جیسے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ماحولیاتی پائیداری اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی بہترین مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے براڈ گیج ریلوے نیٹ ورک کی تقریباً مکمل برقی کاری ہو چکی ہے۔ وندے بھارت ٹرینوں کی توسیع، ممبئی۔احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور اور نئے پمبن پل جیسے منصوبے ریلوے کے جدید کاری پروگرام کا اہم حصہ ہیں۔ مرکزی وزیر نے بحری شعبے میں میری ٹائم امرت کال وژن 2047، ای ناوک، ای سمندر اور گرین شپنگ جیسی اسکیموں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے بھارت کی بحری صلاحیت، لاجسٹکس اور بندرگاہی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔گڈکری نے الیکٹرک بسوں، گرین اربن موبلٹی اسکیم اور علاقائی فضائی رابطے کو فروغ دینے والی اڑان اسکیم کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان نے کثیر جہتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو نئی رفتار دی ہے اور لاجسٹکس لاگت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی حفاظت اور ماحولیات کا تحفظ بھارت کی ٹرانسپورٹ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ اس مقصد کے لیے سڑک حادثات کے متاثرین کے نقدی سے پاک علاج کے لیے پی ایم راحت اسکیم نافذ کی گئی ہے، جبکہ سڑکوں کی تعمیر میں ری سائیکل شدہ پلاسٹک، فلائی ایش، اسٹیل سلیگ، بانس سے تیار کردہ کریش بیریئر اور پرانے ٹائروں کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔نتن گڈکری نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت، ٹریفک جام، کاربن اخراج میں کمی، سڑکوں کی حفاظت اور آخری مرحلے تک رابطہ جیسی عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے برکس ممالک کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے گرین ہائیڈروجن، برقی نقل و حمل، متبادل ایندھن، ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ نظام اور پائیدار کثیر جہتی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں معلومات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔گڈکری نے یقین ظاہر کیا کہ برکس ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون آنے والے برسوں میں عوامی مفاد پر مبنی، عملی اور دیرپا حل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جامع ترقی، مضبوط علاقائی رابطوں اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے