لائبریریوں میں نوجوانوں کی بھیڑ ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے: امت شاہ
نئی دہلی، 11 جولائی (ہ س)۔ امور داخلہ اورامداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے ہفتہ کے روز نوجوانوں سے لائبریریوں سے استفادہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کے مستقبل کا اندازہ اس کی معاشی خوشحالی سے نہیں بلکہ اس کی لائبریریوں میں آنے والے نوج
Amit-Shah-Inauguration-Jayprak


نئی دہلی، 11 جولائی (ہ س)۔ امور داخلہ اورامداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے ہفتہ کے روز نوجوانوں سے لائبریریوں سے استفادہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کے مستقبل کا اندازہ اس کی معاشی خوشحالی سے نہیں بلکہ اس کی لائبریریوں میں آنے والے نوجوانوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم و حکمت ہی ملک کی تعمیر کی اصل طاقت ہے اور لائبریریاں ان کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

امت شاہ نئی دہلی میں ”جے پرکاش نارائن پبلک لائبریری“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوک نائک جے پرکاش نارائن کے نام سے منسوب یہ لائبریری دہلی کے لیے ایک اہم حصولیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک عظیم مجاہد آزادی، مفکر اور جمہوریت کے مضبوط حامی جے پرکاش نارائن کی زندگی ہمیشہ ہم وطنوں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک مفکر نے ایک بار کہا تھا کہ کسی ملک کے مستقبل کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کی لائبریریوں میں لوگوں کی کتنی بھیڑ ہے اور وہاں کتنے نوجوان مطالعہ کر رہے ہیں۔ زراعت، صنعت اور بازار کسی ملک کی ترقی کی علامت ہو سکتے ہیں، لیکن کسی ملک کو ترقی کی معراج تک پہنچانے کی بنیاد علم اور اس کا عملی استعمال ہوتا ہے، جو لائبریریوں سے حاصل ہوتا ہے۔

نوجوانوں سے لائبریریوں سے جڑنے کی اپیل کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ اگر نوجوان مستقل لائبریریوں میں آئیں گے توا ن کی شخصیت میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی ۔ کسی بھی موضوع پر غور کرنے سے پہلے اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اور لائبریریاں یہ موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے سنی سنائی باتوں کی بجائے کتابوں میں پائے جانے والے مستند علم کے حصول کی اہمیت پر زور دیا۔

گاندھی نگر لوک سبھا حلقہ میں لائبریریوں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر گاؤں میں تین سے چار ہزار کتابوں پر مشتمل لائبریریاں قائم کی گئی ہیں جنہیں کہ لاکھوں کتابوں پر مشتمل مرکزی لائبریری سے منسلک کیا گیا ہے ۔ چار موبائل لائبریری وین بھی چلائی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے گاو¿ں کا کوئی بھی طالب علم اپنی پسند کی کتاب منگوا سکتا ہے اور وہ کتاب ہر جمعہ کو ان کے گاؤں پہنچائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لائبریریوں کو مقامی اسکولوں سے بھی جوڑ دیا گیا ہے تاکہ طلبا میں پڑھنے کی عادت پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے دہلی کی اس لائبریری کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ قریبی اسکولوں سے رابطہ کریں اور طلبا کو لائبریری کا دورہ کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں ایک بار لائبریری جانے کی عادت پیدا ہو جائے تو کتابیں باقی کی دیکھ بھال کر لیں گی۔

شاہ نے مشورہ دیا کہ دہلی حکومت تمام پبلک لائبریریوں کو ڈیجیٹل طور پر جوڑنے کی سمت بھی کام کرے۔ اس دو منزلہ جدید لائبریری میں 32,000 سے زیادہ کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس میں محققین کے لیے علیحدہ مطالعہ کے کمرے، ایک جدید ریڈنگ ایریا، ایک کثیر مقاصد آڈیٹوریم، مفت وائی فائی اور ایک ای لائبریری ہے جس میں ایک کروڑ سے زیادہ ای کتابوں کی سہولت دستیاب ہیں۔

لوک نائک جے پرکاش نارائن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے تحریک آزادی اور جمہوریت کے دفاع کے ہر مرحلے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ایمرجنسی کے دوران، جے پرکاش نارائن نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی قیادت کی اور بہار کے گاندھی میدان سے ”سمپورن کرانتی“ کا مطالبہ کیا، جس نے پورے ملک میں جمہوری شعور بیدار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا، پریس پر پابندی لگا دی گئی اور جمہوری ادارے شدید بحران کا شکار تھے۔ ایسے وقت میں معروف ہندی ادیب رام دھاری سنگھ 'دنکر' کی مشہور لائن” اندھیرے میں ایک پرکاش، جے پرکاش“ جمہوریت کے حامیوں کی آواز بن گئی۔ شاہ نے کہا کہ جمہوریت میں اقتدار عوام کے بھروسے پر چلتا ہے اور اقتدار تکبر سے اندھا ہو جائے تو عوام جواب دینا جانتے ہیں۔

شاہ نے جے پرکاش نارائن کے اس خیال کا بھی حوالہ دیا کہ ملک کسی ایک وزیر اعظم سے نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کی اجتماعی کوششوں سے بنتا ہے۔ اس خیال کی آج بھی اتنی ہی معنویت ہے اور قومی تعمیر میں ہر شہری کے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande