شملہ میں 71 دنوں میں 22 لاکھ گاڑیاں پہنچیں، مانسون کی بارش کے درمیان امڈ رہی ہے سیاحوں کی بھیڑ
شملہ، 10 جولائی (ہ س)۔ ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ میں اس سال موسم گرما کے سیاحتی سیزن کے دوران سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد دیکھنے میں آئی ہے۔ یکم مئی سے 10 جولائی تک 71 دنوں میں تقریباً 22 لاکھ گاڑیاں مختلف انٹری پوائنٹس سے گزریں۔ ان میں سے تقریب
TOURISTS-VEHICLES-SML-POLICE


شملہ، 10 جولائی (ہ س)۔ ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ میں اس سال موسم گرما کے سیاحتی سیزن کے دوران سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد دیکھنے میں آئی ہے۔ یکم مئی سے 10 جولائی تک 71 دنوں میں تقریباً 22 لاکھ گاڑیاں مختلف انٹری پوائنٹس سے گزریں۔ ان میں سے تقریباً 8.5 لاکھ گاڑیاں مئی میں، 10.5 لاکھ جون میں اور تقریباً تین لاکھ گاڑیاں جولائی کے پہلے 10 دنوں میں ہی شملہ پہنچیں۔ مانسون نے 30 جون کو ریاست میں دستک دی تھی اور اس کے بعد کئی علاقوں میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے باوجود شملہ آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔

بڑی تعداد میں گاڑیوں کی آمد کے باوجود شہر میں عام ٹریفک کو برقرار رکھنا شملہ پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پیشگی منصوبہ بندی اور اضافی تعیناتی کی وجہ سے سیاحتی سیزن کے دوران شہر میں ٹریفک مسلسل ہموار رہی۔

بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ، ٹریفک پولیس اور ہوم گارڈ کے اہلکاروں کی تعداد 136 سے بڑھا کر 265 کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً 50 رضاکار اور 32 ٹریفک بائیک رائیڈرز کو بھی تعینات کیا گیا۔ اس سے ٹریفک جام کی صورتحال پید اہونے پر فوری کارروائی کرکے ٹریفک کو بحال کیا گیا۔

شہر کے ٹریفک نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے شملہ کو پانچ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا۔ ہر سیکٹر کی ذمہ داری ڈی ایس پی ٹریفک کی نگرانی میں ایک این جی او گریڈ ون کے افسر کو تفویض کی گئی ۔ یہ افسران خود سڑک پر موجود رہ کر ذاتی طور پر ٹریفک کی نگرانی کرتے اور اسے سنبھالتے رہے۔ تھانہ انچارج اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی مصروف اوقات کے دوران سڑکوں پر موجود رہے اور ضرورت پڑنے پر موقع پر ہی فیصلے لے کر حالات سنبھالے۔

پولیس کے مطابق کسی بھی روٹ پر ٹریفک کو مکمل طور پر روکنے کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ جہاں کہیں بھی دباؤ بڑھا، سڑکوں کو سیکٹر افسران، ٹریفک بائیک سواروں اور کرین کی مدد سے جلد سے جلد خالی کروایا گیا۔ شہر کے اندر ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے کفری، مشوبرہ، نالدہرہ، اپر شملہ اور کنور جانے والی گاڑیوں کو شوگی-مہلی بائی پاس کے راستے موڑنے کے انتظامات کیے گئے ۔ ایسی گاڑیوں کی شناخت شوگی سے پہلے اسٹیکر لگا کر کیگئی ۔ اس کے نتیجے میں روزانہ اوسطاً 600 سے 800 گاڑیاں اس متبادل راستے سے گزرتی رہیں، جس سے شہر کی اہم سڑکوں پر دباؤ کم ہوا۔

پولیس نے ضرورت کے مطابق بھیڑ والی جگہوں پر گاڑیوں کے مرحلہ وار ریگولیشن کو بھی نافذ کیا۔ ساتھ ہی ٹریولر، اربینیا، اور اسکینیا جیسی بڑی مسافر گاڑیوں کو بڑے سیاحتی مقامات تک جانے کی اجازت دی گئی ، جس سے سیاحوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم ہوئی۔

شملہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ کے دوران پارکنگ کی جگہوں کی نگرانی، سوشل میڈیا کے ذریعے ریئل ٹائم ٹریفک اپ ڈیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ اور انٹرسیپٹر گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے ذریعے ٹریفک قوانین کی تعمیل کو بھی یقینی بنایا گیا۔

شملہ کے ایس ایس پی گورو سنگھ نے جمعہ کو بتایا کہ ٹریفک ونگ، ضلع پولیس، ہوم گارڈز، این سی سی، این ایس ایس، اسکول کے طلبا، مقامی رضاکاروں اور دیگر محکموں کی مربوط کوششوں کی وجہ سے سیاحوں کے شدید دباو¿ کے باوجود شہر کی ٹریفک معمول پر رہی۔ شہریوں اور سیاحوں کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پولیس نے تمام لوگوں سے مستقبل میں بھی ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کی اپیل کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande