کرور بھگدڑ:تمل ناڈو سی ایم وجے نے متاثرہ خاندان کے 32 افراد کو سرکاری ملازمتوں کےلئے تقرری خط سونپے
کرور، 10 جولائی (ہ س)۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی اور تمل ناڈو ویتری کڑگم (ٹی وی کے) کے صدر جوزف وجے نے جمعہ کو ان 32 افراد کے خاندانوں میں سے ہر ایک کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق سرکاری ملازمتوں کے لئے تقرری خط سونپے جنہوں نے گزشتہ سال کرور میں ایک
کرور بھگدڑ:تمل ناڈو سی ایم وجے نے متاثرہ خاندان کے 32 افراد کو سرکاری ملازمتوں کےلئے تقرری خط سونپے


کرور، 10 جولائی (ہ س)۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلی اور تمل ناڈو ویتری کڑگم (ٹی وی کے) کے صدر جوزف وجے نے جمعہ کو ان 32 افراد کے خاندانوں میں سے ہر ایک کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق سرکاری ملازمتوں کے لئے تقرری خط سونپے جنہوں نے گزشتہ سال کرور میں ایک انتخابی مہم کے جلسے کے دوران بھگدڑ میں اپنی جان گنوائی تھی۔ کرور کے ایٹلس گرا¶نڈ میں منعقدہ اس تقریب میں پارٹی کارکنان، متوفی کے رشتہ داروں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جوزف وجے تروچیراپلی ہوائی اڈے سے بذریعہ سڑک کرور پہنچے۔ راستے میں مختلف مقامات پر پارٹی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ تقرری کے خطوط تقسیم کرنے کے بعد، انہوں نے کرور بھگدڑ کو اپنی عوامی زندگی کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔اپنے خطاب میں وجے نے کہا کہ کرور کا واقعہ ان کی زندگی کا سب سے گہرا زخم تھا اور اسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ واقعہ کے وقت جائے وقوعہ سے چلے گئے تھے لیکن عوام کی حفاظت ان کی اولین ترجیح تھی۔

وجے نے کہا، ’ انسان کتنی ہی بلندی پر پہنچ جائے، کچھ درد اور زخم کبھی نہیں بھولے جا سکتے۔ میری زندگی کا سب سے بڑا درد اور گہرا زخم کرور کا واقعہ ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے اس مشکل وقت میں میں وہاں سے چلا گیا تھا، اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ پیسہ زیادہ اہم ہے یا عوام، تو میرا جواب ہمیشہ عوام ہوگا۔‘

وزیر اعلیٰ نے کرور پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے نامککل سے کرور کے سفر کے دوران کوئی پیشگی انتباہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ بروقت ضروری معلومات فراہم کرتی تو پروگرام کو ملتوی یا منسوخ کیا جا سکتا تھا اور اس سانحہ سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے پیرمبلور سے آریالور جاتے وقت پولس نے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے وہ پروگرام ملتوی کردی گئی تھی، لیکن کرور کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔کرور بھگدڑ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پورے واقعہ کی حقیقت سامنے آنی چاہئے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ ہونے سے کو روکا جاسکے۔

دریں اثنا، جمعہ کو مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ میں متوفی کے رشتہ داروں کو سرکاری ملازمت دینے سے متعلق دائر درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو عارضی سرکاری تقرریاں فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

قابل ذکر ہے کہ 27 ستمبر 2025 کو کرور میںٹی وی کے کی طرف سے منعقدہ انتخابی مہم کے دوران بھگدڑ میں 41 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ اس وقت، حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو پہلے ہی تامل ناڈو حکومت کی طرف سے ہر ایک کو 10 لاکھ اور ٹی وی کے سے 20 لاکھ کی مالی امداد مل چکی تھی۔ اب 32 خاندانوں میں سے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری خط بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande