ہندوستان نے برطانیہ سے گاڑیوں کی درآمد پر ایف ٹی اے کے تحت ڈیوٹی کوٹہ کے فوائد حاصل کرنے کے طریقہ کار کو مطلع کیا
-پہلے سال ان تینوں زمروں میں کل 20,000 مسافر کاروں کو درآمد کرنے کی اجازت ہوگی نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان نے برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے ( ایف ٹی اے ) کے تحت رعایتی کسٹم ڈیوٹی پر گاڑیوں کی درآمدات کی راہ ہموار کرتے ہوئے کوٹہ پر مب
India-notifies-tariff-quota-process-for-UK-vehicle


-پہلے سال ان تینوں زمروں میں کل 20,000 مسافر کاروں کو درآمد کرنے کی اجازت ہوگی

نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان نے برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے ( ایف ٹی اے ) کے تحت رعایتی کسٹم ڈیوٹی پر گاڑیوں کی درآمدات کی راہ ہموار کرتے ہوئے کوٹہ پر مبنی ڈیوٹی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے درآمد کنندگان کیمنظوری کے عمل کو مطلع کر دیا ہے۔ یہ بندوبست 15 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی ) نے 9 جولائی کو جاری کردہ ایک عوامی نوٹس میں کہا،”ہندوستان -برطانیہ (سی ای ٹی اے) کے تحت کوٹہ پر مبنی ٹیرف ریٹ ( ٹی آر کیو) کو مختص کرنے کے طریقہ کار کو مطلع کیا جاتا ہے۔“ اس نوٹیفکیشن کے مطابق، درآمدی کنسائنمنٹ کی کسٹم کلیئرنس کے وقت، ہندوستان میں درآمد کنندہ کو برطانیہ کی متعلقہ اتھارٹی کے ذریعہ جاری سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنا ہوگی۔

ڈی جی ایف ٹی نوٹیفکیشن کے مطابق، جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) کے تحت، ہندوستان دونوں فریقوں کے لئے مقرکردہ کوٹہ کے تحت موٹر گاڑیوں کی درآمدات پر ڈیوٹی کو تقریباً 110فیصد سے کم کر کے 10فیصد کر دے گا۔ ہندوستان تجارتی معاہدے کے نفاذ کے پہلے 15 برسوں کے دوران برطانیہ سے روایتی انجن والی مسافر گاڑیوں کے 3.78 لاکھ یونٹ رعایتی کسٹم ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈی جی ایف ٹی نے کہا، ”صرف برطانیہ میں تیار کردہ گاڑیوں کے اصل پرزوں کو بنانے والے ( او ای ایم ) یا ان کے باضابطہ طور پر مجاز ڈیلر/چینل پارٹنرز ہی ٹی آر کیو کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔“ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ نے یہ بھی کہا کہ اہل ہونے کے لیے، ہر درخواست دہندہ کو برطانیہ میں واقع وہیکل مینوفیکچرر (او ای ایم ) کی طرف سے جاری کردہ پری ایمپشن معاہدہ جمع کروانا ہوگا۔ اس میں ٹی آر کیو سال کے دوران فراہم کی جانے والی گاڑیوں کی تعداد کا ذکر ہوگا۔

ڈی جی ایف ٹی نے کہا”ان درآمدات کے لیے، ’سال‘ کا مطلب ہندوستان میں یکم جنوری سے 31 دسمبر تک کے کیلنڈر کی مدت ہوگی۔ ڈی جی ایف ٹی جاری کردہ ٹی آر کیو سرٹیفکیٹس کی مجموعی تعداد کی نگرانی کرے گا۔ مقررہ ٹی آر کیو کی حد تک پہنچنے کے بعد کوئی ٹی آر کیو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔“ یہ سرٹیفکیٹس زیادہ سے زیادہ 12 ماہ کی مدت کے لیے یا کیلنڈر سال کے اختتام تک، جو بھی پہلے ہو ،درست ہوں گے۔

ڈی جی ایف ٹی نے کہا، ”ٹی آر کیو کے تحت درآمد کرنے والے درآمد کنندگان آخری خریدار یا صارف تک کسٹم ڈیوٹی کے رعایتی فائدے کو منتقل کرنے کی کوشش کریں گے۔“ برطانیہ سے ہندوستان میں درآمد کی جانے والی روایتی انجن والی مسافر گاڑیوں کا کوٹہ پانچویں سال میں مختلف زمروں میں 37,000 یونٹس تک بڑھ جائے گا۔ کسٹم ڈیوٹی کو بتدریج آخری 10 فیصد تک کم کیا جائے گا۔ اس کے بعد ڈیوٹی میں مزید کمی نہیں ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے سال 3,000 سی سی (پیٹرول) اور 2,500 سی سی (ڈیزل) سے زیادہ انجن کی گنجائش والی کاروں کا کوٹہ 10,000 یونٹ ہوگا۔ ان پر کسٹم ڈیوٹی 110 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دی جائے گی۔ 1,500 سی سی (پیٹرول)، 2,500 سی سی (ڈیزل) اور 3,000 سی سی (پیٹرول) کے انجن کی گنجائش والی کاروں کا کوٹہ 5,000 یونٹ ہوگا اور ان پر ڈیوٹی 66 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کردی جائے گی۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق معاہدے کے پہلے سال میں 1500 سی سی تک انجن کی گنجائش والی ماس مارکیٹ کاروں کے 5 ہزار یونٹس کی درآمد کی اجازت ہوگی اور ان پر کسٹم ڈیوٹی 66 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کردی جائے گی۔

پہلے سال تینوں کیٹیگریز میں کل 20,000 مسافر کاریں درآمد کی جائیں گی

معاہدے کے پہلے سال میں ان تینوں زمروں میں کل 20,000 مسافر کاروں کو درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہندوستان نے 40,000 برطانوی پاو¿نڈ ( سی آئی ایف ) سے کم قیمت والی گاڑیوں کے لیے اپنی مارکیٹ نہیں کھولی ہے۔ اس سے بڑے پیمانے کے بازار والی الیکٹرک گاڑیوں (ای وی ) سیگمنٹ کو مکمل تحفظ حاصل ہو گا، جس میں ہندوستان ٹاٹا موٹرس، مہندرا اینڈ مہندرا اور ماروتی سوزوکی جیسی گھریلو کمپنیوں کے ذریعہ عالمی قیادت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ہندوستان نے پہلے پانچ برسوں سے الیکٹرک، ہائبرڈ اور ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں دی ہے۔ تاہم، چھٹے سال سے 40,000 برطانوی پاونڈ (سی آئی ایف) سے 80,000 برطانوی پاونڈ (سی آئی ایف ) (دونوں سمیت) قیمت والی ایسی گاڑیوں پر ڈیوٹی کسٹم 50فیصد کر دی جائے گی اور ان کے لئے 400اکائیوں کا کوٹی ہوگا۔ وہیں 80,000برطانوی پاونڈ (سی آئی ایف ) سے زیادہ قیمت والی ایسی گاڑیوں پر ڈیوٹی 40فیصد ہوگی اور ان کی درآمد ی حد 4000یونٹ طے کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande