آئی سی الیکٹرکلز کا اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز، پریمیم لسٹنگ کے بعدلگا اوپری سرکٹ
نئی دہلی، 10 جولائی(ہ س) ریلوے ایپلی کیشنز کے لیے الیکٹرانک آلات بنانے اور ہندوستانی ریلوے کو انجینئرنگ حل فراہم کرنے والی آئی سی الیکٹرکلز کمپنی لمیٹڈ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کیا۔ کمپنی
بزنس


نئی دہلی، 10 جولائی(ہ س) ریلوے ایپلی کیشنز کے لیے الیکٹرانک آلات بنانے اور ہندوستانی ریلوے کو انجینئرنگ حل فراہم کرنے والی آئی سی الیکٹرکلز کمپنی لمیٹڈ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 99 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 67.68 فیصد پریمیم کے ساتھ 166 روپے کی سطح پر تھی۔ لسٹنگ کے بعد خریداری کی وجہ سے کمپنی کے حصص تھوڑے ہی عرصے میں 174.3 روپے کی اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ گئے۔ اس طرح ٹریڈنگ کے پہلے ہی دن کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو 75.3 روپے فی حصص یعنی 76.06 فیصد کا منافع حاصل ہوا۔

کمپنی کا 47.91 کروڑ روپے کا آئی پی او 3 اور 7 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 295.08 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کو 241.75 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 764.38 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس کے علاوہ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 372.51 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے 48,39,600 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کی آمدنی کو ورکنگ کیپٹل کی ضروریات اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

آئی سی الیکٹرکلز کمپنی لمیٹڈ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئیہے۔ مالی سال 2023تا2024 میں، کمپنی کا خالص منافع 4.62 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 9.41 کروڑ روپے ہو گیا۔ وہیں، گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں، کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر14.10 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024 میں 99.75 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 122.39 کروڑ روپے ہو گئی۔ اس کے علاوہ، گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کی آمدنی کی وصولی بڑھ کر 143.81 کروڑ روپے ہو گئیں۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کا قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024 کے اختتام پر کمپنی پر 47.81 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر55.79 کروڑروپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا قرضہ بڑھ کر75.42 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 27.11 کروڑروپے کی سطح پر تھا۔جو 2024تا2025 میں بڑھ کر36.12 روپے ہو گیا۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر 50.20 کروڑ روپے ہو گئے۔

کمپنی کی مجموعی مالیت کی بات کریں تو اس میں گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران بھی اضافہ ہوتا رہا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 33.22 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 51.71 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں کمپنی کی مجموعی مالیت 65.74 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ، ٹیکسز،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024 میں12.14 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 18.34 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح، 2025تا2026 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 25.66 کروڑروپے کی سطح پر آگیاتھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande