
ممبئی ، 10 جولائی (ہ س) مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے جمعہ کے روز ریاست کے مختلف شہروں میں بیک وقت وسیع پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائیاں پاکستان میں مقیم مبینہ آئی ایس آئی ہینڈلر شہزاد بھٹی کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے کے شبہ میں بعض افراد کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ اے ٹی ایس کے مطابق ممبئی، تھانے، کرلا، باندرہ، جوگیشوری، نوی ممبئی، میرا روڈ، بھائیندر، سانگلی، ستارا اور اورنگ آباد سمیت کئی مقامات پر تلاشی مہم جاری ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شہزاد بھٹی سے مبینہ رابطے رکھنے والے افراد کی سرگرمیوں اور روابط کی جانچ کی جا رہی ہے۔اس کارروائی سے قبل دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے بدھ کے روز پاکستان میں مقیم آئی ایس آئی ہینڈلر شہزاد بھٹی سے منسلک دو مبینہ ماڈیولز کا پردہ فاش کرتے ہوئے دہلی اور پنجاب سے چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اسی سلسلے کی تحقیقات کے تحت مہاراشٹر اے ٹی ایس نے بھی ریاست بھر میں یہ کارروائیاں شروع کی ہیں۔تفتیش کے دوران گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق شہزاد بھٹی کی نشاندہی پر دہلی کے اہم مقامات پر پیٹرول بم حملوں کی مبینہ سازش تیار کی گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے سول لائنز کے نیو پولیس لائنز، آنند وہار بین ریاستی بس اڈہ، ایک ریلوے اسٹیشن اور دہلی کی مصروف بازاروں کی مبینہ طور پر ریکی کی گئی تھی۔ تفتیشی حکام نے ملزموں کے موبائل فونز سے ان مقامات کی ویڈیوز بھی ضبط کی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ممنوعہ میسیجنگ ایپ کے ذریعے شہزاد بھٹی کو بھیجا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا چیٹس سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہزاد بھٹی مبینہ ملزم دانش عرف چاند میاں کو حملے کے لیے استعمال ہونے والے سامان کی فراہمی اور ذخیرہ کرنے کے بارے میں ہدایات دے رہا تھا۔ تفتیشی ایجنسیوں کا شبہ ہے کہ یہ سامان پیٹرول بم حملوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل دہلی پولیس کی اسپیشل سیل راج گھاٹ کے عقب میں واقع وجے گھاٹ کے علاقے سے پیٹرول بم بھی برآمد کر چکی ہے۔حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے تمام چھ ملزم پاکستان میں موجود مزید دس افراد کے بھی رابطے میں تھے۔ تفتیشی اداروں کو شبہ ہے کہ یہ تمام افراد شہزاد بھٹی کے لیے کام کر رہے تھے اور اس وسیع مبینہ سازش میں ان کے کردار کی بھی چھان بین جاری ہے۔ تحقیقات کے مطابق دانش عرف چاند میاں کو دہلی میں ممکنہ حملوں کے لیے ریکی اور منصوبہ بندی کی ذمہ داری دی گئی تھی اور مشن کامیاب ہونے پر اسے 20 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھی سلمان کو مبینہ طور پر حملے کی ویڈیو بنا کر شہزاد بھٹی تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ طیب کو اسلحہ وصول کرنے اور اسے آگے فروخت کے لیے منتقل کرنے کا کام دیا گیا تھا۔تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ زبیر خان پر امرتسر سے اسلحہ کی کھیپ پہنچانے کا شبہ ہے، جبکہ علی فضل پر اسلحہ فروخت کرنے کی ذمہ داری ہونے کا الزام ہے۔ اسی طرح ملکیت سنگھ پر پاکستان سے ڈرون کے ذریعے گرائے گئے اسلحہ کو نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچانے کا الزام ہے۔ تفتیشی ادارے اس مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک اور پاکستان میں موجود دیگر ہینڈلرز کے کردار کی بھی تفصیل سے جانچ کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے