
نئی دہل/موہالی، 9 جون (ہ س)۔پنجاب کے موہالی میں انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( آئی این ایس ٹی ) کے محققین نے آواز کی لہروں کا استعمال کرتے ہوئے اسپن کرنٹ کو پیدا اور کنٹرول کرنے کا ایک نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے ۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق، محققین کا دعویٰ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے اگلے سلسلے کے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کی توانائی کی کھپت میں نمایاں کمی آئے گی۔ فی الحال، روایتی الیکٹرانک آلات جیسے ہمارے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر برقی چارجز کی نقل و حرکت پر کام کرتے ہیں۔ یہ عمل بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتا ہے، جس سے توانائی کا نقصان ہوتا ہے۔
اس شعبے میں مصروف عمل محققین ’’اسپنٹرونکس‘‘ پر کام کر رہے ہیں، جو بجلی کے کرنٹ کے بجائے اسپن کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔اس ٹیکنالوجی میں میگنوں،جو مادے کے اندر مقناطیسی خلل کی لہریں، معلومات کے بنیادی کیریئر کے طور پر ابھری ہیں۔ وہ الیکٹران کے مقابلے میں بہت کم توانائی کے نقصان کے ساتھ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ کے ایک خودمختار ادارے آئی این ایس ٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم شیوم شرما اور ان کے نگران پروفیسرابیر ڈی سرکار نے ایک بہت ہی پتلی مقناطیسی تہہ کے نیچے سے آواز کی لہریں گزریں۔ یہ تناؤ مقناطیسی لہروں کی رفتار اور سمت کو کنٹرول کرتا تھا۔ یہ نئی دریافت فون اور لیپ ٹاپ میں بیٹری کی کھپت کو نمایاں طور پر کم کرے گی، جس سے بار بار چارجنگ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ بھاری کام یا گیمنگ کے دوران بھی فون گرم نہیں ہوں گے۔ مستقبل کے کمپیوٹر (کوانٹم کمپیوٹرز) اور انٹرنیٹ کی رفتار آج کے مقابلے کئی گنا تیز ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد