مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ پر کراس ووٹنگ کا خدشہ، کانگریس اراکینِ اسمبلی بھوپال سے بنگلورو بھیجے جا رہے
مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ پر کراس ووٹنگ کا خدشہ، کانگریس اراکینِ اسمبلی بھوپال سے بنگلورو بھیجے جا رہے بھوپال، 9 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ پر بی جے پی کی طرف سے امیدوار اتارے جانے کے بعد کانگریس کو کراس ووٹنگ ک
حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچے کانگریس اراکینِ اسمبلی۔


مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ پر کراس ووٹنگ کا خدشہ، کانگریس اراکینِ اسمبلی بھوپال سے بنگلورو بھیجے جا رہے

بھوپال، 9 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ پر بی جے پی کی طرف سے امیدوار اتارے جانے کے بعد کانگریس کو کراس ووٹنگ کا خوف ستا رہا ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر کانگریس اپنے تمام اراکینِ اسمبلی کو خصوصی طیارے (چارٹرڈ پلین) سے بنگلورو بھیج رہی ہے۔ منگل کے روز تمام کانگریس اراکینِ اسمبلی بھوپال پہنچ گئے۔ یہاں وہ پہلے اسمبلی میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار کے بنگلے پر پہنچے اور یہاں سے اپنی اپنی گاڑیوں سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ دوپہر تک زیادہ تر اراکینِ اسمبلی بھوپال ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے۔ مدھیہ پردیش کانگریس نے اسٹار ایئرلائنز کا 72 سیٹر خصوصی طیارہ بک کرایا ہے۔ اسی طیارے سے اراکینِ اسمبلی کو بھوپال ایئرپورٹ سے بنگلورو لے جایا جائے گا۔

اس سلسلے میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے کہا کہ کانگریس کی جہاں حکومت ہے، ہم اراکینِ اسمبلی کو وہاں لے جائیں گے۔ کانگریس کو اپنے تمام 62 اراکینِ اسمبلی پر پورا بھروسہ ہے۔ یہ پوری طرح ایک عام سیاسی عمل کا حصہ ہے اور تمام اراکینِ اسمبلی مضبوطی سے پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی مبینہ توڑ پھوڑ کی سیاست کو دیکھتے ہوئے محتاط رہنا ضروری ہے، اس لیے پارٹی تنظیمی سطح پر تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ بی جے پی اپنے اراکینِ اسمبلی کو سنبھال کر رکھے۔

سنگھار نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جمہوری اداروں کو کمزور کر کے ملک کو آمریت کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی جمہوریت، آئین اور عوام کی آواز کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری لڑائی اقتدار کی نہیں، بلکہ اس نظریے کے خلاف ہے جو جمہوری اقدار کو کچلنا چاہتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس اراکینِ اسمبلی متحد ہیں۔ یہ راجیہ سبھا الیکشن صرف ایک سیٹ کا انتخاب نہیں، بلکہ 2028 کی تبدیلی کی سمت میں میل کا پتھر ثابت ہو گا۔

بھوپال ایئرپورٹ پہنچے کانگریس کے رکنِ اسمبلی جے وردھن سنگھ نے کہا کہ ووٹنگ میں ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ ایسے میں تمام اراکینِ اسمبلی نے ایک ساتھ کچھ وقت گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اراکینِ اسمبلی کو لگا کہ ووٹنگ سے پہلے کچھ دن ساتھ رہنا اچھا رہے گا۔ اس سے باہمی تال میل مزید مضبوط ہو گا اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔ اسی وجہ سے ہم سب ایک ساتھ جا رہے ہیں۔

کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ بھی ایئرپورٹ پہنچے۔ جب ان سے اراکینِ اسمبلی کے ایک ساتھ روانہ ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ کانگریس اراکینِ اسمبلی کسی چارٹرڈ طیارے سے کہیں جا رہے ہیں، اس لیے میں بھی دیکھنے آ گیا کہ وہ آخر کہاں جا رہے ہیں۔ راجیہ سبھا انتخابات کے پیشِ نظر اراکینِ اسمبلی کو باہر بھیجے جانے کی وجہ پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پارٹی ایسے فیصلے کئی پہلووں پر غور کرنے کے بعد ہی لیتی ہے۔

سینئر کانگریس رہنما اجے سنگھ ’راہل‘ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کانگریس کے کئی اراکینِ اسمبلی کے بی جے پی کے رابطے میں ہونے کے تذکرے ہیں، تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ارے بھائی، میرے رابطے میں تو بی جے پی کے 5-4 اراکینِ اسمبلی ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کس کا رابطہ زیادہ مضبوط ہے۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی تین سیٹوں کی مدت 21 جون کو ختم ہو رہی ہے۔ ان میں دو سیٹیں بی جے پی اور ایک سیٹ کانگریس کے کھاتے کی ہے۔ کانگریس کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کی مدت پوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے دوبارہ راجیہ سبھا جانے کی خواہش ظاہر نہیں کی، جس کے بعد پارٹی نے میناکشی نٹراجن کو امیدوار بنایا۔ وہیں بی جے پی نے پہلے دو سیٹوں کے لیے رجنیش اگروال اور ترون چُگ کو امیدوار ڈکلیئر کیا تھا۔ اس کے بعد پارٹی قیادت کے مسلسل غور و خوض اور تزویراتی میٹنگوں کے بعد تیسری سیٹ پر مہیش کیوٹ کو میدان میں اتار دیا۔ یعنی تیسری سیٹ کے لیے ان کا مقابلہ کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن سے ہو گا۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں فی الحال 228 ارکان ووٹنگ کے اہل ہیں۔ راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے کے لیے 58 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے پاس 164 اراکینِ اسمبلی ہیں، جبکہ کانگریس کے پاس 63 اراکینِ اسمبلی ہیں۔ دو سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے بعد بی جے پی کے پاس تقریباً 48 ووٹ بچیں گے۔ ایسے میں تیسری سیٹ جیتنے کے لیے اسے مزید 10 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande