کانگریس کو دھچکا،مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی منسوخ، تلنگانہ میں درج کیس چھپانے کا الزام
بی جے پی کے اعتراض پر ریٹرننگ آفیسر نے فیصلہ لیا بھوپال، 9 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات کی سرگرمیوں کے درمیان تیسری سیٹ سے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی (نامنیشن پیپر) خارج کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے اعتراض پر
میناکشی نٹراجن کی فائل تصویر


بی جے پی کے اعتراض پر ریٹرننگ آفیسر نے فیصلہ لیا

بھوپال، 9 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات کی سرگرمیوں کے درمیان تیسری سیٹ سے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی (نامنیشن پیپر) خارج کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے اعتراض پر منگل کی شام ریٹرننگ آفیسراروند شرما نے یہ فیصلہ لیا۔ اس کے بعد راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ کا انتخابی منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے اور بی جے پی کے تینوں امیدواروں کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

دراصل میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کے خلاف بی جے پی نے رسمی طور پر اعتراض درج کرایا تھا۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ میناکشی نے تلنگانہ کی حیدرآباد عدالت میں زیرِ التوا ایک کیس کی معلومات پرچہ نامزدگی میں چھپائی ہیں۔ اس سلسلے میں مبصر (آبزرویر) نے وجہ بتاو نوٹس جاری کر کے منگل کی شام تک جواب مانگا تھا۔ اعتراض پر سماعت کے دوران اسمبلی احاطے میں دن بھر سیاسی گہما گہمی رہی۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈران ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے باہر موجود رہے۔

نامزدگی کی جانچ کے دوران اسمبلی احاطے میں دونوں پارٹیوں کے رہنماوں کے درمیان تیکھی نوک جھونک اور ہنگامے کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ نعرے بازی اور شور شرابے کے درمیان کانگریس اراکینِ اسمبلی ہیمنت کٹارے اور وکرانت بھوریا نے ریٹرننگ آفیسر کے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے پولیس اور اسمبلی کے سیکورٹی اہلکاروں نے روک دیا۔

بی جے پی کے مطابق، حیدرآباد کے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں سابق کارپوریٹر اے شری لتا نے نٹراجن کے خلاف ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ نٹراجن نے کمبھم شیوکمار ریڈی نامی شخص کو سیاسی سروے کا کام دیا تھا۔ اس دوران، شری لتا نے ریڈی پر چھیڑ چھاڑ اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا الزام لگایا ہے، جس سے یہ پورا تنازعہ جڑا ہوا ہے۔

بی جے پی کی طرف سے اپنا موقف رکھنے والے وکیل سنکیت گپتا نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف زیرِ التوا کیس کی معلومات دستاویزات میں دستیاب تھیں اور اس معاملے میں ان کی جانب سے جواب بھی داخل کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود یہ معلومات حلف نامے میں شامل نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق امیدوار کے لیے اپنے خلاف زیرِ التوا مقدمات کی پوری معلومات دینا لازمی ہے۔ اسی بنیاد پر بی جے پی نے نامزدگی پر اعتراض درج کرایا تھا۔ سنکیت گپتا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جائیداد سے متعلق تفصیلات میں بھی تضاد پایا گیا، جسے بی جے پی نے اپنے اعتراض کا حصہ بنایا تھا۔

حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ میناکشی کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمہ نہیں ہے۔ انہیں عدالت سے صرف ایک نوٹس ملا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک گاندھی وادی خاتون سے بی جے پی ڈر گئی۔ کانگریس کی جیت اور ایک ایماندار خاتون امیدوار کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبرائی بی جے پی کا اصلی چہرہ آج اسمبلی میں بے نقاب ہو گیا۔ جب کانگریس کی جیت صاف دکھائی دے رہی ہے، تب بی جے پی ہر طرح کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی نے آج جمہوریت کے مندر کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کی کوشش کی۔

ادھر، کانگریس اپنے اراکینِ اسمبلی کو بنگلورو شفٹ کر رہی ہے۔ تقریباً دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد کانگریس کی چارٹرڈ فلائٹ کو اڑان بھرنے کی اجازت ملی۔ شام تقریباً ساڑھے 6 بجے 38 اراکینِ اسمبلی سمیت 75 افراد کو لے کر طیارے نے بنگلورو کے لیے اڑان بھری، لیکن میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی منسوخ ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد کانگریس اراکینِ اسمبلی کو لے کر بنگلورو جا رہا طیارہ رن وے سے واپس لوٹ آیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande