’وکست بھارت جی رام جی‘اسکیم یکم جولائی سے نافذ کی جائے گی، مرکز نے ریاستوں کو 95,692 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا
نئی دہلی، 09 جون (ہ س)۔زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج ’وکست بھارت گرام جی‘ کے نفاذ سے متعلق ریاستی وزرا برائے دیہی ترقی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں حکوم
’وکست بھارت جی رام جی‘اسکیم یکم جولائی سے نافذ کی جائے گی، مرکز نے ریاستوں کو 95,692 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا


نئی دہلی، 09 جون (ہ س)۔زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج ’وکست بھارت گرام جی‘ کے نفاذ سے متعلق ریاستی وزرا برائے دیہی ترقی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں حکومت ہند نے دیہی روزگار، مزدوروں کے تحفظ اور دیہات کی مجموعی ترقی کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک جامع مالیاتی اور پالیسی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرا کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے اس تاریخی نئے انتظام کے تحت ایک مکمل طور پر ہموار، مزدور دوست منتقلی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اجلاس میں مرکزی وزیرِ مملکت جناب چندر شیکھر پیماسانی نے بھی شرکت کی۔

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اجلاس کے دوران کہا کہ یہ صرف ایک اسکیم کی منتقلی نہیں بلکہ کروڑوں مزدوروں کی زندگی اور روزگار سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ”ایک بھی مزدور ایک دن کے لیے بھی بے روزگار نہیں رہنا چاہیے“ اور اس بات پر زور دیا کہ روزگار کی فراہمی، اجرت کی ادائیگی یا قانونی حقوق میں کسی قسم کی رکاوٹ ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت پہلے ہی منریگا کے تحت 30,000 کروڑ روپے مختص کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ آج ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 95,692 کروڑ روپے کی عبوری رقم بھی جاری کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مجموعی مختص رقم 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گی۔

شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ رقم ملک بھر کی تقریباً 2.80 لاکھ گرام پنچایتوں تک پہنچے گی، جس سے ہر پنچایت کو کئی لاکھ روپے مالیت کے فنڈ حاصل ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان فنڈز کو قانون کی دفعات کے تحت شناخت شدہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جانا چاہیے تاکہ روزگار کی فراہمی اور دیہی اثاثوں کی تعمیر دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت صرف فنڈ فراہم نہیں کر رہی بلکہ بروقت اجرت کی ادائیگی، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ترقیاتی کاموں کے بلا تعطل جاری رہنے کو بھی یقینی بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ مناسب تعداد میں منصوبوں کی پیشگی منظوری دیں تاکہ یکم جولائی سے ہی تیز رفتار عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کئی ریاستوں نے ڈی بی ٹی، ایس ایم ایس پر مبنی معلوماتی نظام، ای-کے وائی سی اور فیس آتھنٹیکیشن جیسے عمل میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، جو نئے انتظام کے کامیاب نفاذ کی نشاندہی کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’وکست بھارت – گرامین بھارت‘ کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے 26 ریاستیں پہلے ہی بجٹ کی فراہمی کر چکی ہیں، جبکہ جھارکھنڈ، کرناٹک، تلنگانہ اور میزورم سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ عمل جلد از جلد مکمل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ذاتی طور پر خط بھی لکھیں گے۔ریاستوں کو ہدایات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جلد از جلد ریاستی سطح کے نوٹیفکیشن جاری کریں۔ میزورم، پڈوچیری اور آندھرا پردیش کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کو سراہتے ہوئے انہوں نے دیگر ریاستوں سے بھی عمل تیز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ریاستوں کو یہ ہدایت بھی دی کہ زرعی مصروف موسموں کو نوٹیفائی کریں، 100 فیصد ای-کے وائی سی یقینی بنائیں اور ضلعی و بلاک سطح پر استعداد سازی اور آگاہی پروگرام منعقد کریں۔ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ منصوبوں کا انتخاب گرام پنچایتوں اور گرام سبھاو¿ں کے ذریعے کیا جائے گا اور انہی تجاویز کی بنیاد پر انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ یکم جولائی تک منریگا کے تحت روزگار کی فراہمی اور اجرت کی ادائیگی میں کسی قسم کی کمی یا رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔اجلاس کے دوران مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مختلف ریاستوں کے لیے عبوری مالی مختص رقم کا اعلان کیا۔ آندھرا پردیش کے لیے 7,707.21 کروڑ روپے، اروناچل پردیش 560.70 کروڑ روپے، آسام 1,929.24 کروڑ روپے، بہار 6,715.83 کروڑ روپے، چھتیس گڑھ 3,354.85 کروڑ روپے، گوا 3.70 کروڑ روپے، گجرات 1,540.54 کروڑ روپے، ہریانہ 590.23 کروڑ روپے، ہماچل پردیش 1,201.78 کروڑ روپے، جھارکھنڈ 2,705.64 کروڑ روپے، کرناٹک 5,709.09 کروڑ روپے، کیرالہ 3,136.44 کروڑ روپے، مدھیہ پردیش 6,252.03 کروڑ روپے، مہاراشٹر 4,420.32 کروڑ روپے، منی پور 581.99 کروڑ روپے، میگھالیہ 1,155.09 کروڑ روپے، میزورم 611.65 کروڑ روپے، ناگالینڈ 287.85 کروڑ روپے، اوڈیشہ 3,763.80 کروڑ روپے اور پنجاب 1,331.61 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح راجستھان کے لیے 7,581.87 کروڑ روپے، سکم 97.57 کروڑ روپے، تمل ناڈو 7,957.57 کروڑ روپے، تلنگانہ 4,229.74 کروڑ روپے، تریپورہ 1,041.07 کروڑ روپے، اتر پردیش 12,221.48 کروڑ روپے، اتراکھنڈ 626.43 کروڑ روپے اور مغربی بنگال کے لیے 8,508.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے ریاستوں کے لیے کل مختص رقم 92,550.17 کروڑ روپے بنتی ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پڈوچیری کو 40.56 کروڑ روپے، جموں و کشمیر 1,151.02 کروڑ روپے، انڈمان و نکوبار جزائر کو 4.44 کروڑ روپے، لداخ 85.98 کروڑ روپے، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کو 9.02 کروڑ روپے اور لکشدیپ کو 0.32 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مجموعی رقم 1,291.32 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے اس فراہمی کے ساتھ 1,850.62 کروڑ روپے مرکزی انتظامیہ اور سماجی آڈٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جس سے عبوری مجموعی مختص رقم 95,692.31 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے علاقائی ترقی کو مزید رفتار ملے گی۔

شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ اقدام ”وکست بھارت“ کے ہدف کے حصول کے لیے ”وکست گاو¿ں“ کی تعمیر کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق اس کی کامیابی ریاستوں کے عزم، تیاری اور فعال شرکت پر منحصر ہوگی۔انہوں نے تمام ریاستوں کو 28 اور 29 جون کو نئی دہلی کے پوسا انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والی قومی دیہی ترقی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں اس اقدام کے مو¿ثر نفاذ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ شیوراج سنگھ چوہان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تمام ریاستوں کے تعاون اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں یہ اقدام دیہی بھارت میں انقلابی تبدیلی لانے اور کروڑوں مزدوروں کو پائیدار روزگار اور بہتر ذریعہ? معاش فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande