انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک دو افراد گرفتار،جنوب مشرقی ایشیا میں فراڈ کے مرکز سے جڑا ہے معاملہ
نئی دہلی، 9 جون (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جنوب مشرقی ایشیا میں دھوکہ دہی کے مرکز سے منسلک انسانی اسمگلنگ اور سائبر سلیوری کے نیٹ ورک کی تحقیقات کے سلسلے میں دو اہم ملزمین نپندر چودھری اور نیلیش نرپت سنگھ پروہت کو گرفتار کیا ہے۔ اس نی
اسمگلنگ


نئی دہلی، 9 جون (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جنوب مشرقی ایشیا میں دھوکہ دہی کے مرکز سے منسلک انسانی اسمگلنگ اور سائبر سلیوری کے نیٹ ورک کی تحقیقات کے سلسلے میں دو اہم ملزمین نپندر چودھری اور نیلیش نرپت سنگھ پروہت کو گرفتار کیا ہے۔ اس نیٹ ورک نے ہندوستانی شہریوں کو روزگار کے منافع بخش مواقع کا لالچ دیا اور انہیں میانمار اور کمبوڈیا میں غیر قانونی کمپاونڈز تک پہنچایا، جہاں انہیں سائبر کرائم کی سرگرمیوں پر مجبور کیا گیا۔

سی بی آئی نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ نیٹ ورک نے ایجنٹوں اور ساتھیوں کے ذریعے ہندوستانی شہریوں کو بیرون ملک ملازمتوں کا لالچ دے کر بھرتی کیا۔ اس کے بعد متاثرین کو میانمار اور کمبوڈیا کے فراڈ سینٹرز میں لے جایا گیا جہاں ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے اور انھیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے معاملات میں، خاندانوں کو اپنے پیاروں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی رقم ادا کرنی پڑی۔

گرفتار ملزمان میں سے ایک فراڈ سینٹر آپریٹر کی جانب سے کام کرتا تھا اور ہندوستانی شہریوں کو میانمار پہنچانے کے لیے رسد کا انتظام کرتا تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ متاثرین کو پہلے بنکاک سے ماے ساٹ (میانمار کی سرحد سے متصل قصبہ) پہنچایا گیا اور پھر تھائی لینڈ-میانمار کی سرحد کے پار غیر قانونی مراکز تک پہنچایا گیا۔ دوسرا ملزم ہندوستان میں سب ایجنٹس کا نیٹ ورک چلاتا تھا اور تھائی لینڈ-میانمار سرحد کے قریب واقع ایک فراڈ سینٹر سے کام کرتا تھا۔ اس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے سینٹر آپریٹرز سے فنڈز حاصل کیے۔

سی بی آئی نے کہا کہ مئی میں اسی معاملے میں آٹھ مقامات پر چھاپے مارے گئے تھے اور ایک اور ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش جاری ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande