
چنڈی گڑھ، 9 جون (ہ س)۔ مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں، امرتسر دیہی پولیس نے سرحد پار سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے دو دستی بم برآمد کئے ہیں۔ ملزمان دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے اپنے غیر ملکی ہینڈلرز کی ہدایات کے منتظر تھے۔
پنجاب کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) گورو یادو نے منگل کو بتایا کہ ترن تارن کے گاوں چنگھ کے رہنے والے دیویندر سنگھ عرف سور سنگھ، ترن تارن کے رہنے والے راجویندر سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان سے دستی بم برآمد کرنے کے علاوہ، پولیس ٹیموں نے ان کی سیڈان کار، ایک ہنڈائی ورنا بھی قبضے میں لے لی ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دونوں غیر ملکی ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دستی بموں کی برآمدگی سرحدی ریاست میں امن و امان کو خراب کرنے کی ایک بڑی سازش کی نشاندہی کرتی ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ نیٹ ورک میں شامل دیگر ساتھیوں کی شناخت کے لیے فارورڈ اور بیکورڈ کنکشن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
امرتسر دیہی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کنولپریت سنگھ چہل نے کہا کہ پولیس ٹیموں کو مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ مشتبہ افراد دیویندر سنگھ اور راجویندر سنگھ کو بارڈر پار سے اپنے ہینڈلرز کے ذریعے بھیجے گئے دھماکہ خیز مواد کی کھیپ ملی ہے اور وہ ریاست کے امن اور ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کے مقصد سے دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی (انویسٹی گیشن) گروندرپال سنگھ ناگرا اور ڈی ایس پی (اٹاری) یادویندر سنگھ کی نگرانی میں پولیس ٹیموں نے خفیہ آپریشن شروع کیا اور دونوں ملزمان کو خاصہ علاقے سے گرفتار کیا۔ ان کی ورنا کار کی تلاشی کے دوران دو دستی بم برآمد ہوئے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملزمان دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے اپنے غیر ملکی ہینڈلرز کی ہدایات کے منتظر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ دونوں ملزمان کو غیر ملکی ہینڈلر سے ہرونت سنگھ عرف ہیری نے ملوایا تھا، جو اس وقت امرتسر جیل میں بند ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے کئی بار ہرونت سنگھ کے ساتھیوں کو اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد پہنچایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ٹیموں نے امرتسر جیل سے ہرونت سنگھ عرف ہیری کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے اور اس سلسلے میں ایک الگ مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی