
تہران،07جون(ہ س)۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے غیر قانونی اقدامات کے کسی بھی نتائج اور مزید کسی بھی کشیدگی کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف ڈرون داغنے کے جواب میں امریکی افواج کی جانب سے قشم اور غورک میں ایرانی ساحلی نگرانی کے رادار کے مقامات کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آیا ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن کا کشیدگی کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔انہوں نے سیریک کے علاقے اور جزیرہ قشم میں رادار اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر امریکی حملے کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔ ایرانی بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی فوج نے تہران کے اندر رادار کے مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
یہ کارروائی چار ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کے بعد کی گئی جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ وہ خطے میں شہری بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ اس کے متوازی ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کی شام سیریک اور قشم جزائر پر امریکی حملے کے جواب میں خطے میں امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا ذکر کیا۔دوسری طرف امریکی مرکزی کمانڈ ( سینٹ کام ) نے اطلاع دی کہ ایران نے کویت اور بحرین کی سمت سات بیلسٹک میزائل داغے ہیں، فضائی دفاع نے ان میں سے چھ کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکا۔سینٹ کام نے مزید کہا کہ اس وقت امریکی افواج کے صفوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو نقصان پہنچانے کے ایرانی دعوے جھوٹے ہیں۔
دوسری طرف بحرین اور کویت کو ہفتے کی صبح سویرے ایرانی میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور منامہ نے ان حملوں کو، جو تین دنوں میں دونوں ملکوں کو نشانہ بنانے والے دوسرے حملے ہیں، ایک سفاکانہ جارحیت اور دونوں ریاستوں کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ بحرین اور کویت نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بلاجواز جارحیتوں کو فوری طور پر روکے اور امن کے راستے پر گامزن ہوجائے۔کویت نے اعلان کیا کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے جارحانہ حملوں کا مقابلہ کیا ہے۔ کویتی وزارت خارجہ نے ایران کی بار بار اور غیر قانونی جارحیتوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ جارحیت ایک خطرناک کشیدگی کی نمائندگی کرتی ہے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو نظرانداز کرتی ہے۔
موجودہ فوجی کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بند گلی میں پہنچنے کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی ادائیگی کے طریقہ کار، جوہری معاملے اور بغیر کسی شرط کے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر۔ اسی دوران پاکستان نے نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔تہران نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر تیل کی آمدنی سے اربوں ڈالر حاصل کرنے، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور اس کے ساتھ ساتھ اہم آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے پر اصرار کیا ہے۔ ایران نے اس تزویراتی گزرگاہ میں گزشتہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی بحری جہاز رانی کو عملی طور پر روک دیا ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا لگ بھگ پانچواں حصہ گزرتا تھا۔دوسری طرف امریکی فریق نے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی نقل و حرکت پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ نے بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز پر سے پابندی ہٹانے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا اور جوہری معاملے میں سخت ترمیمات شامل کی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan